حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد جشن میلاد النبی ﷺ کے پیش نظر ٹریفک پولیس کی جانب سے شہریوں کی آسانی کےلئے اڈوائزری جاری کی گئی۔ اس ایڈوائزری کا مقصد جشن میلاد النبی کے موقع پر نکالے جانے والے متعدد میلاد جلوسوں کے دوران ٹریفک کی مناسب روانی اور نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔
جشن میلاد النبیﷺ کے موقع پر 5 میلاد جلوس بڑے پیمانہ پر صبح 8 بجے تا رات 8 بجے کے درمیان نکالے جائیں گے۔ ان جلوسوں کے پیش نظر، شہر کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
میلاد جلوس کے روٹس:
پہلا جلوس فلک نما سے نکالا جائے گا جو چارمینار سے ہوتا ہوا والٹا ہوٹل مغلپورہ پر اختتام پذیر ہوگا۔
دوسرا جلوس درگاہ یحییٰ پاشاہ سے والٹا ہوٹل تک اور پھر اسی راستے سے واپس درگاہ یحییٰ پاشاہ آئے گا۔
تیسرا جلوس مکہ مسجد سے حج ہاؤس، نامپلی تک نکال جائے گا۔
چوتھا جلوس مکہ مسجد سے والٹا ہوٹل تک جئے گا۔
پانچواں اور آخری جلوس پتھرگٹی سے علی جاہ کوٹلہ تک نکالا جائے گا۔
14 ستمبر بروز اتوار حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک، ضرورت کے مطابق ٹریفک کو روکا جائے گا یا متبادل راستوں پر موڑا جائے گا۔ یہ انتظامات جلوسوں کی پرامن گزرگاہ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ خاص طور پر فلک نما، انجن باؤلی، ناگل چنتا کراس روڈ، ہمت پورہ جنکشن، وولگا، ہری باؤلی، پنچ محلہ، چارمینار، گلزار حوض، پتھرگٹی، مدینہ بلڈنگ، دہلی گیٹ، نیا پل، ایس جے روٹری جنگشن، دارالشفا، پرانی حویلی، منڈی میرعالم، اعتبار چوک، بی بی بازار، وولٹا ہوٹل، افضل گنج، تاج آئس لینڈ، نامپلی، حج ہاوز و دیگر علاقوں میں میلاد جلوس کے دوران ٹریفک تحدیدات عائد رہیں گی۔
شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ ان اوقات میں سفر کی منصوبہ بندی کرتے وقت ان تبدیلیوں کو مدنظر رکھیں۔ ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کرنا سب کے لیے فائدہ مند ہوگا۔ ان تمام مقامات پر ٹریفک پولیس اہلکار موجود ہوں گے جو آپ کی رہنمائی کریں گے۔ براہ کرم ان کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
ٹریفک کی تازہ ترین معلومات کے لیے ٹریفک پولیس کے سوشل میڈیا چینلز سے جڑے رہیں۔
ایک اور اطلاع کے مطابق جشن میلاد النبیﷺ کے موقع پر 14 ستمبر کو حیدرآباد میں سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ اس دوران تین ہزار سے زائد پولیس فورس کو تعینات کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ میلاد النبی اور گنیش وسرجن ایک ساتھ آنے کی وجہ سے مسلمانوں نے جشن میلاد النبی 14 ستمبر کو منانے کا فیصلہ کیا تاکہ ریاست میں امن و امان کو برقرار رکھا جاسکے۔


