بڑی خبر: وقف (ترمیمی) ایکٹ پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ!

حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی، کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و دیگر مسلم جماعتوں، تنظیموں اور اداروں کی سخت جدوجہد ثمر آور ثابت ہوئی۔ یہ خبر ہندوستانی مسلمانوں کےلئے انتہائی اہم اور خوش آئند ہے۔ وقف املاک سے متعلق ایک نئے قانون کے کچھ اہم حصے کو سپریم کورٹ نے روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ لاکھوں مسلمانوں کے لیے ایک بڑی خبر ہے جو اس قانون کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس اہم عدالتی فیصلے کے کیا معنی ہیں۔

سپریم کورٹ نے وقف (ترمیمی) ایکٹ کی کچھ اہم دفعات پر عمل درآمد روک دیا ہے۔ عدالت نے ان دفعات کو “من مانی” اور اختیارات کا غلط استعمال قرار دیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گاوائی اور جسٹس اے جی مسیح پر مشتمل بنچ نے سنایا۔

عدالت نے کہا کہ پورے قانون پر روک لگانے کا کوئی جواز نہیں، لیکن کچھ حصوں کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے بعد آیا ہے، جہاں مسلم تنظیموں نے اس قانون کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔

کلکٹر کے اختیارات پر روک
نئے قانون میں ضلع کلکٹر کو وقف املاک کی ملکیت کے معاملات میں حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس شق پر فوری طور پر روک لگا دی ہے۔ عدالت نے اسے اختیارات کی تقسیم کی خلاف ورزی قرار دیا۔

عدالت نے واضح کیا کہ کلکٹر کو شہریوں کے ذاتی حقوق کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جب تک ٹریبونل کے ذریعے فیصلہ نہیں ہوتا، کسی بھی فریق کے خلاف تیسرے فریق کے حقوق پیدا نہیں کیے جا سکتے۔ یہ مسلم تنظیموں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔

وقف بورڈ اور کونسل کی تشکیل
سپریم کورٹ نے وقف بورڈ میں غیر مسلم اراکین کی تعداد پر بھی اہم ہدایات جاری کیں۔ عدالت نے کہا کہ وقف بورڈ میں تین سے زیادہ غیر مسلم اراکین شامل نہیں ہونے چاہئیں۔ اسی طرح، مرکزی وقف کونسل میں چار سے زیادہ غیر مسلم نہیں ہونے چاہئیں۔

یہ شق بھی مسلم کمیونٹی کے خدشات کو دور کرنے میں مدد دے گی۔ یہ فیصلہ وقف اداروں کی اسلامی شناخت اور کردار کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہے۔

وقف کے اعلان کا طریقہ کار
عدالت نے اس شق پر بھی روک لگا دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صرف وہی شخص وقف کا اعلان کر سکتا ہے جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل پیرا ہو۔ چیف جسٹس گاوائی نے کہا کہ کسی مناسب طریقہ کار کے بغیر یہ من مانی اختیارات کا استعمال ہوگا۔ یہ فیصلہ وقف کے قیام کے عمل کو مزید شفاف اور منصفانہ بنائے گا۔ یہ شق بھی مسلم تنظیموں کے لیے تشویش کا باعث تھی۔

پس منظر اور احتجاج
1995 کے وقف قانون میں ترامیم کو اپریل میں پارلیمنٹ نے منظور کیا تھا اور صدر کی منظوری بھی مل گئی تھی۔ ان ترامیم کے خلاف ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے۔ مسلم تنظیموں نے ان ترامیم کو غیر آئینی اور وقف اراضی پر قبضہ کرنے کی سازش قرار دیا تھا۔ حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بہت سی وقف املاک تنازعات اور تجاوزات کا شکار ہیں۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ نیا قانون ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

آئین کی بالادستی
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس کا “مفروضہ ہمیشہ کسی قانون کی آئینی حیثیت کے حق میں ہوتا ہے”۔ مداخلت صرف “نایاب ترین صورتوں” میں ہی کی جانی چاہیے۔ یہ فیصلہ آئین کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ عدلیہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ یہ قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔

یہ سپریم کورٹ کا ایک تاریخی فیصلہ ہے جو وقف املاک کے تحفظ اور مسلم کمیونٹی کے حقوق کے لیے اہم ہے۔ اس فیصلے سے متعلق مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔ اردو نیوز پورٹل دکن فائلز کا مشاہدہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں