حیدرآباد (دکن فائلز) یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں کئی ریاستوں کے تبدیلی مذہب کے قوانین پر اہم سماعت کی ہے۔ جانیں کیا ہوا اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اتر پردیش، اتراکھنڈ، ہریانہ، مدھیہ پردیش اور راجستھان سمیت دیگر ریاستوں سے جواب طلب کیا ہے۔ یہ جواب ان قوانین کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر مانگا گیا ہے۔ عدالت نے ریاستوں کو چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گاوائی کی سربراہی میں بنچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں نے ان قوانین کو اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔ یہ قوانین بین المذاہب شادیوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔
سینئر وکیل چندر اُدے سنگھ نے فوری سماعت کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومتیں ان قوانین کو مزید سخت کر رہی ہیں۔ ان قوانین کی وجہ سے بین المذاہب شادیوں میں شامل افراد کو ہراسانی کا سامنا ہے۔
سینئر وکیل اندرا جیسنگ نے مدھیہ پردیش کے قانون کی دفعہ 10 پر عبوری حکم امتناعی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ حکم سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے تک برقرار رہنا چاہیے۔ یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہے۔
سنگھ نے بتایا کہ گجرات اور مدھیہ پردیش کے قوانین کی کچھ دفعات پر پہلے ہی حکم امتناعی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کے 2024 کے ترمیمی قانون کو بھی چیلنج کرنے کی اجازت مانگی۔ ان ترامیم سے تیسرے فریق کو شکایت درج کرانے کا اختیار مل گیا ہے۔
اس سے بین المذاہب شادیوں اور مذہبی رسومات میں شامل افراد کو ہراسانی کا سامنا ہے۔ ہجوم انہیں اٹھا کر لے جاتے ہیں اور پولیس شکایات درج کرتی ہے۔ یہ صورتحال مذہبی آزادی کے لیے تشویشناک ہے۔
عدالت نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج سے کہا کہ وہ ریاستی حکومتوں کے جوابات داخل کریں۔ یہ جوابات قوانین میں ترمیم پر حکم امتناعی کی درخواستوں پر ہونے چاہئیں۔ عدالت نے مزید سماعت چھ ہفتوں بعد مقرر کی ہے۔
عدالت نے ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے کی ایک درخواست کو بھی الگ کر دیا۔ اس درخواست میں جبر اور دھوکہ دہی کے ذریعے تبدیلی مذہب کے خلاف ملک گیر قانون کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ ایک الگ قانونی بحث کا موضوع ہے۔
2020 میں، سپریم کورٹ نے سٹیزنز فار جسٹس اینڈ پیس کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا۔ یہ درخواست بھی تبدیلی مذہب کے قوانین کے خلاف تھی۔ جمعیت علماء ہند نے بھی کئی ہائی کورٹس میں زیر التواء مقدمات کو سپریم کورٹ منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔
ان قوانین میں ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے قوانین شامل ہیں۔ ان کا مقصد جبری یا دھوکہ دہی سے تبدیلی مذہب کو روکنا ہے۔ تاہم، ان پر غلط استعمال اور انفرادی آزادیوں کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔
یہ معاملہ ملک کی مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ دور رس اثرات مرتب کرے گا۔


