مسلم لڑکی ثانیہ: ایک خواب کا قتل اور گجرات میں مسلمانوں کی حالت زار کا ثبوت؟

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے احمد آباد میں ایک 15 سالہ لڑکی کی خودکشی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ثانیہ، جو پولیس افسر بننے کا خواب دیکھتی تھی، گجرات کے ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ کے غلط استعمال کا ایک المناک نشان بن گئی ہے۔ اس کی موت نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ کہانی اکتوبر 2024 میں شروع ہوئی جب ثانیہ کی والدہ شاہجہاں بانو نے گومتی پور میں ایک گھر خریدا۔ 15 لاکھ روپے کی ادائیگی مکمل ہو چکی تھی، لیکن گھر کی منتقلی سے پہلے ہی مسائل کھڑے ہو گئے۔ فروخت کنندہ کے شوہر کے انتقال کے بعد، سوناوڈے خاندان نے جائیداد منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بجائے، انہوں نے شاہجہاں کے خاندان کو ہراساں کرنا شروع کر دیا۔

جنوری 2025 میں، شاہجہاں نے گومتی پور پولیس سے مدد مانگی۔ لیکن پولیس نے بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے، انہیں دھمکانا شروع کر دیا۔ پولیس نے ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے، ہندو ملکیت والی جائیداد خریدنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی۔ یہ ایکٹ کا سراسر غلط استعمال تھا۔

7 اگست کو صورتحال مزید بگڑ گئی اور تشدد کا روپ اختیار کر گئی۔ سوناوڈے خاندان کے سات افراد نے شاہجہاں اور اس کے بچوں پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ثانیہ کو شدید چوٹیں آئیں اور اس کے بھائی کو سر پر زخم آئے۔ حیرت انگیز طور پر، پولیس نے صرف ایک شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا جسے اگلے ہی دن ضمانت مل گئی۔

بار بار کے حملوں اور ذلت سے دلبرداشتہ ہو کر، ثانیہ نے 9 اگست کو خودکشی کر لی۔ اس نے ایک نوٹ چھوڑا جس میں سوناوڈے خاندان کے سات افراد کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے باوجود، پولیس نے پانچ دن تک ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کی۔ یہ تاخیر پولیس کی بے حسی اور لاپرواہی کو ظاہر کرتی ہے۔

ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ پر سوال
1986 میں نافذ کیا گیا یہ ایکٹ فسادات والے علاقوں میں جائیداد کی جبری فروخت کو روکنے کے لیے تھا۔ اس کے تحت خریدار اور بیچنے والے کو کلکٹر کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ تاہم، مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ یہ ایکٹ اب مسلم خاندانوں کو ہراساں کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ثانیہ کی موت اس قانون کے غلط استعمال کی ایک خوفناک مثال ہے۔

گومتی پور کے رہائشی ثانیہ کی خودکشی کو “حکومت پر ایک سیاہ دھبہ” قرار دے رہے ہیں۔ یہ صرف ایک لڑکی کا معاملہ نہیں، بلکہ کئی خاندانوں کی عزت سے جینے کے حق کی پامالی ہے۔ ثانیہ کی کہانی نے گجرات میں پولیس کی بے عملی، امتیازی سلوک اور قوانین کو تعصب کے ساتھ استعمال کرنے کو بے نقاب کیا ہے۔

ثانیہ کا خواب تھا کہ وہ قانون کی خدمت کرے، لیکن وہ خود اس کے مبینہ غلط استعمال کا شکار ہو گئی۔ اس کی موت نے ہمارے معاشرے اور عدالتی نظام پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں