پانچ سال سے قید عمر خالد کی ضمانت پر تعطل ہنوز برقرار، سپریم کورٹ میں ایک بار پھر سماعت ملتوی

حیدرآباد (دکن فائلز) عمر خالد کی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کے بعد ان کی رہائی پر تعطل ہنوز برقرار ہے۔ عمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کو دہلی فسادات کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ فسادات فروری 2020 میں ہوئے تھے، جن میں 29 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ ان پر سازش کا حصہ ہونے کا الزام ہے۔

یہ معاملہ ملک بھر میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، جبکہ حکام اسے قانون کی بالادستی کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ ایک بار پھر سپریم کورٹ نے عمر خالد اور دیگر ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کو ملتوی کرکے نئی تاریخ 22 ستمبر دی ہے۔

جسٹس اروند کمار اور جسٹس منموہن پر مشتمل بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ یہ سماعت پہلے 12 ستمبر کو ہونی تھی، لیکن سپلیمنٹری لسٹ دیر سے ملنے کے باعث ملتوی کر دی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ انہیں فائلز کا جائزہ لینے کے لیے کافی وقت نہیں ملا۔ یہ تاخیر کیس کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے عمر خالد سمیت نو ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ فسادات “باقاعدہ احتجاج” نہیں بلکہ ایک “سوچی سمجھی، منظم سازش” تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ شرجیل امام اور عمر خالد کا کردار اس پوری سازش میں بظاہر سنگین ہے۔ ان پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا الزام ہے۔

عمر خالد کے علاوہ، شرجیل امام، گلشیما فاطمہ، میران حیدر، اطہر خان، عبدالخالد سیفی، محمد سلیم خان، شفا الرحمان اور شاداب احمد کی ضمانت بھی مسترد کی گئی تھی۔ یہ سبھی دہلی فسادات کیس میں ملزم ہیں۔

تاہم، کچھ ملزمان کو ضمانت ملی بھی ہے۔ نتاشا نروال، دیوانگنا کلیتا اور آصف اقبال تنہا کو جون 2021 میں ضمانت دی گئی تھی۔ سابق کانگریس کونسلر عشرت جہاں کو مارچ 2022 میں ضمانت ملی تھی۔

اب سب کی نظریں 22 ستمبر پر ہیں، جب سپریم کورٹ اس اہم کیس کی دوبارہ سماعت کرے گا۔ یہ فیصلہ عمر خالد کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں