*بڑی خبر : حیدرآباد میں میلاد جلوس کے دوران متنازعہ ریمارکس کرنے اور ٹریفک پولیس اہلکار کو دھمکی دینےکے الزام میں مسلم نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج، قانون کا اطلاق سب پر یکساں کیوں نہیں ہوتا؟ عوام کا سوال*

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں میلاد جلوس کے دوران امن میں خلل ڈالنے والوں کے خلاف پولیس نے سخت کارروائی کی ہے۔ ہندوتوا تنظیموں نے سوشل میڈیا پر کچھ نوجوانوں کے نعروں کی ویڈیوز شیئر کیں، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔ یہ اقدام شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا۔

حیدرآباد سٹی پولیس نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈل پر واضح بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم امن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہیں اور کمیونٹی کے ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔”

پولیس نے وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کا مقصد ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جنہوں نے امن میں خلل ڈالا۔ ایس ایچ او حسینی عالم نے ایف آئی آر نمبر 195/2025 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جس کی تصدیق حیدرآباد سٹی پولیس کے ایکس ہینڈل نے بھی کی۔

مسلم علمائے کرام اور رہنماؤں کی جانب سے بھی متعدد مرتبہ نوجوانوں سے یہ کہا گیا کہ جلوس میں اس طرح کی حرکتوں سے پرہیز کریں۔ آپ کی ایک غلط حرکت کی وجہ سے فرقہ پرست طاقتوں کو پوری مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنانے کا موقع ملتا ہے۔

14 ستمبر کو میلاد النبی کے جلوسوں کے دوران کچھ افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ کچھ نوجوانوں پر ٹریفک پولیس اہلکاروں سے بحث اور متنازعہ ریمارکس کرنے کا الزام ہے۔ کچھ ویڈیوز میں نوجوانوں کو اسٹنٹ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس طرح کی حرکتوں کی ہر کوئی مذمت کررہا ہے۔ جلوس میں اس طرح کی حرکت سے ماحول خراب ہوسکتا ہے۔

ان واقعات کے بعد پولیس نے کارروائی کا فیصلہ کیا اور یہ واضح پیغام دیا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے عوام کی جانب سے سوال کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کی کارروائی دیگر جلوسوں میں شامل لوگوں کے خلاف کیوں نہیں کی جاتی؟

پولیس سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ’دیگر جلوسوں میں متنازعہ گانے بجائے جاتے ہیں اور انتہائی اشتعال انگیز نعرے بھی لگائے جاتے ہیں۔ مساجد کے سامنے ہنگامہ کیا جاتا ہے اور مقررین کی جانب سے کھلے عام پولیس اور مسلمانوں کو دھمکی دی جاتی ہیں۔ ان سب کے باوجود پولیس تماشائی کیوں بنی رہتی ہے؟‘

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر ہندوتوا کارکنوں کی جانب سے مسلمانوں سے متعلق چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بھی شیئر کرکے نفرت پھیلائی جاتی ہے۔ لیکن مسلمان ان کی حرکتوں پر خاموش رہتے ہیں۔ پولیس کو چاہیے کہ دیگر جلوسوں میں ہونے والی اشتعال انگیز حرکتوں کا بھی نوٹ لیں اور انہیں روکنے کے لیے سخت کارروائی کرے۔

حکومت اور پولیس کو چاہئے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو۔ امن و امان کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ہم سب کے لیے برابر اور اہم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں