حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستان بھر میں ہندی نیوز چینلس میں اردو کے الفاظ کثرت سے استعال ہوتے ہیں۔ ایسا کرنے میں کوئی غلطی نہیں ہے اور نہ ہی اس پر کسی اردو داں طبقہ کو اعتراض ہے۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ اس پر حکومت کی جانب سے نوٹس دی گئی۔
ایک شکایت کے بعد، پانچ بڑے چینلز کو وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے نوٹس بھیجے گئے ہیں۔ تھانے، مہاراشٹر کے رہائشی ایس کے شریواستو نے 9 ستمبر 2025 کو CPGRAMS پورٹل پر ایک شکایت درج کروائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ TV9 بھارت ورش، آج تک، ABP نیوز، زی نیوز اور TV18 جیسے ہندی نیوز چینلز اپنے نشریات میں تقریباً 30 فیصد اردو الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔
شریواستو کا کہنا ہے کہ یہ چینلز خود کو ہندی چینل کہتے ہیں لیکن روزمرہ کی گفتگو میں دوسری زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ عوام کے ساتھ دھوکہ دہی اور ایک مجرمانہ فعل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان چینلز کو زبان کے ماہرین مقرر کرنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے مثالیں بھی دیں، جیسے ‘تشریف رکھیے’ بیٹھنے کے لیے اور ‘سیلاب’ سیلاب کے لیے۔ ان کے مطابق، ایک عام ہندی بولنے والا ان الفاظ کو کیسے سمجھے گا؟ ان کا ایک مقصد ہندی بولنے والوں کو روزگار فراہم کرنا بھی ہے۔
وہیں سوشل میڈیا میں اسے اردو دشمنی بھی کہا جارہا ہے۔
18 ستمبر 2025 کو وزارت اطلاعات و نشریات کے انڈر سیکرٹری نونیت کمار نے پانچوں چینلز کو الگ الگ خطوط بھیجے۔ ان خطوط میں بتایا گیا کہ ان کے خلاف غلط ہندی کے استعمال کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ خط میں واضح کیا گیا کہ شکایت کے پیش نظر، چینلز کے خلاف کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (ترمیمی) قواعد کے مطابق کارروائی کے احکامات دیے گئے ہیں۔ یہ ایک متنازعہ قدم ہے جو زبان کے استعمال پر حکومتی نگرانی کو ظاہر کرتا ہے۔
چینلز کو پندرہ دنوں کے اندر شکایت پر لیے گئے فیصلے کی اطلاع وزارت اور شکایت کنندہ کو دینے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی حکومت نے جنوری 2025 میں کیبل ٹیلی ویژن نیٹ ورک (ترمیمی) قواعد، 2025 نافذ کیے تھے۔ حکومت کے مطابق، یہ قواعد کیبل ٹیلی ویژن سیکٹر کو جدید بنانے اور بہتر کنٹرول کے لیے بنائے گئے ہیں۔
یہ معاملہ ہندی اور اردو کے درمیان زبان کے استعمال پر ایک نئی بحث چھیڑ سکتا ہے۔ اردو کو عوامی زبان کہا جاتا ہے اسی لئے ہندی فلموں اور چینلس میں اردو کے الفاظ استعال کئے جاتے ہیں تاکہ لوگوں کو آسانی سے سمجھ آئے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ اردو زبان بولی جاتی ہے جبکہ اسے ہندی کا نام دے دیا جاتا ہے۔
حکومت کی کاروائی کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا اردو الفاظ کا استعمال ہندی چینلز کے لیے واقعی ایک مسئلہ ہے؟ یا اسے اردو دشمنی کا نام دینا چاہئے؟
واضح رہے کہ فرقہ پرست طاقتیں ہر معاملہ میں نفرت پھیلانے کی سازشوں میں مصروف ہیں، زبان، مذہب، عقیدت و دیگر معاملہ پر نفرت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔


