حیدرآباد میں بارش کا قہر جاری: گاڑیاں بہہ گئیں، سڑکیں جھیل بن گئیں! (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں حالیہ بارشوں نے ایسا خوفناک منظر پیش کیا ہے جسے دیکھ کر شہری حیرت زدہ رہ گئے۔ سیلاب کے پانی میں کئی گاڑیاں بہہ گئیں۔ سڑکوں پر پاینی جمع ہونے سے شہر میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ وہیں ٹولی چوکی اور حکیم پیٹ کے علاقوں میں دیواریں گرنے کی بھی اطلاع ہے۔

حیدرآباد میں موسلادھار بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سڑکیں ندیوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ نشینبی علاقوں اور کئی کالونیوں میں پانی کا بہاؤ اتنا تیز تھا کہ گلیاں جھیلوں میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ منظر دیکھ کر ہر کوئی حیران رہ گیا۔

حکیم پیٹ، شیخ پیٹ، مہدی پٹنم، ٹولی چوکی، ونستھلی پورم اور مانصاحب ٹینک، ایل بی نگر، حیات نگر، جوبلی ہلز اور بنجارہ ہلز سمیت پرانے شہر کے کئی محلوں میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ فلم نگر، پنجہ گٹہ، خیرت آباد اور ایس آر نگر بھی بارش کی زد میں ہیں۔ یہ بارش شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔

راج بھون روڈ اور امیر پیٹ میں گھٹنوں تک پانی جمع ہو گیا۔ اس سے گاڑی چلانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں دیگر علاقوں میں بھی صورتحال انتہائی خراب تھی۔ پانی کے تیز بہاؤ میں موٹر سائیکلیں، کاریں اور آٹو رکشا بہہ گئے۔ لوگ اپنی گاڑیوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے، لیکن پانی کا زور اتنا زیادہ تھا کہ کوئی چارہ نہ تھا۔ یہ مناظر دل دہلا دینے والے تھے۔

امیر پیٹ میں گرین پارک ہوٹل کے قریب سڑک بھی جھیل میں بدل گئی۔ پانی کی سطح اتنی بلند تھی کہ گاڑیوں کا گزرنا ناممکن ہو گیا۔ شدید بارش کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا۔ شام کے وقت مہدی پٹنم سے این ایم ڈی سی تک کا سفر 40 منٹ میں طے ہوا۔ عام طور پر یہ سفر بہت کم وقت میں طے ہوتا ہے۔ کئی چوراہوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، جس سے کئی کیلومیٹر تک ٹریفک جام رہا۔ گاڑیاں سست روی سے حرکت کر رہی تھیں، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے۔

محکمہ موسمیات نے آئندہ چند گھنٹوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ خیرت آباد، قطب اللہ پور اور ایل بی نگر میں شدید بارش کا امکان ہے۔ جن اضلاع کے لیے اورنج اور یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے، وہاں 40 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل سکتی ہیں۔

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اس صورتحال میں محتاط رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں