حیدرآباد (دکن فائلز) اب حالات اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ کسی کی آخری آرام گاہ کو بھی سکون نہ ملے؟ مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں ایک ایسا ہی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ صرف ایک قبر کی بے حرمتی نہیں، بلکہ انسانیت اور مذہبی جذبات پر حملہ ہے۔
شہر کے بڑے قبرستان میں دو قبروں کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک قبر ایک خاتون کی تھی جسے چند روز قبل ہی دفن کیا گیا تھا۔ دوسری قبر کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی ہے۔ یہ دلخراش منظر پیر کی صبح سامنے آیا، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حکام دیگر قبروں کا بھی معائنہ کر رہے ہیں تاکہ مزید کسی بے حرمتی کا پتہ چلایا جا سکے۔
اس واقعے کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں لوگ قبرستان پہنچ گئے۔ سوگوار خاندان، سٹی قاضی سید نثار علی اور کوتوالی پولیس اسٹیشن کے افسران بھی موقع پر موجود تھے۔ خاتون کے رشتہ داروں کی موجودگی میں ان کی قبر کو دوبارہ درست کیا گیا۔ مقامی مسلمانوں نے اس گھناؤنے فعل پر شدید احتجاج کیا۔
قبرستان میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا۔ رات کے وقت دو افراد برہنہ حالت میں قبروں کے قریب گھومتے نظر آئے۔ ایک شخص کو کیمرے پر چادر ڈال کر اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ پولیس نے ڈی وی آر قبضے میں لے لیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب صرف چار ماہ قبل اسی قبرستان میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔ 20 مئی کو، چاند رات کے موقع پر، چھ قبریں کھلی پائی گئی تھیں۔ ان واقعات کے بعد کمیونٹی نے سیکیورٹی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کروائے تھے۔ یہ مسلسل واقعات کمیونٹی میں شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
سٹی قاضی سید نثار علی نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے “مذہبی جذبات کو گہرا دکھ پہنچانے والا عمل” قرار دیا اور ذمہ داروں کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا۔
سی ایس پی ابھینو برانگے نے تصدیق کی ہے کہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا تجزیہ کر رہی ہے۔ ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے اور جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔
یہ ایک سنگین معاملہ ہے جو مذہبی مقامات کی حرمت اور امن و امان پر سوال اٹھاتا ہے۔ اس واقعہ پر ملک بھر میں برہمی پائی جاتی ہے اور ہر کوئی اس کی شدید مذمت کررہا ہے۔ حکام سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس گھناؤنے فعل کے ذمہ داروں کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔


