حیدرآباد (دکن فائلز) کیا ترقی کے نام پر ہماری صدیوں پرانی وراثت کو مٹانا صحیح ہے؟ گجرات ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے نے اس سوال کو پھر سے اٹھا دیا ہے۔ یہ فیصلہ احمد آباد کی 400 سال پرانی مانسا مسجد سے متعلق ہے۔
احمد آباد کی 400 سال پرانی مانسا مسجد کو جزوی طور پر مسمار کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے موقف کی حمایت کی ہے۔ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے حق میں آیا ہے۔
مسجد کے منتظمین کی جانب سے دائر کی گئی چار ہفتے کی روک کی درخواست کو عدالت نے مسترد کر دیا۔ جسٹس مونا ایم بھٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ میونسپل کمشنر نے GPMC ایکٹ کے تحت خصوصی اختیارات استعمال کیے۔ اس لیے وقف ایکٹ کی دفعات یہاں لاگو نہیں ہوتیں۔ عدالت نے AMC کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔
احمد آباد میونسپل کارپوریشن (AMC) نے شہر کی ترقی کے لیے مسجد کے کچھ حصے کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے اس مطالبے کو قانونی طور پر درست قرار دیا۔ مانسا مسجد ٹرسٹ نے دلیل دی کہ یہ مسجد تقریباً 400 سال پرانی ہے اور اس کی خاص مذہبی و ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ صدیوں سے کمیونٹی کے لیے عبادت کا مرکز رہی ہے۔ ٹرسٹ نے اس کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش بھی کروائی ہے۔
ٹرسٹ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہدام مذہبی آزادی کی آئینی ضمانتوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے AMC پر جنوری 2025 میں دائر اعتراضات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔
ریاستی حکومت نے اس منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ اس سے کالوپور ریلوے اسٹیشن اور احمد آباد میٹرو جنکشن کو جوڑنے میں مدد ملے گی۔ یہ شہری ترقی کے لیے اہم ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب گجرات میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کے تحفظ پر شدید تناؤ ہے۔ اس سے قبل گر سومناتھ میں بھی کئی مذہبی یادگاروں کو مسمار کیا جا چکا ہے۔
گر سومناتھ میں 500 سال پرانی مسجد، درگاہ اور قبرستان کے انہدام نے بڑے پیمانے پر غم و غصہ پیدا کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی ریاستی حکومت کی کارروائیوں کو قانونی قرار دیا تھا۔
تاہم مسلمانوں کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے کہ ’کیا ترقی کے نام پر ہماری تاریخ کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے؟‘


