حیدرآباد (دکن فائلز) سعودی عرب کے سب سے بڑے دینی منصب پر ایک ایسی شخصیت کو فائز کیا گیا ہے جو علم، حکمت اور بصیرت کا پیکر ہے۔ آج ہم ان کی زندگی کے سفر پر روشنی ڈالیں گے، جو یقیناً آپ کو متاثر کرے گا۔ یہ تقرری 25 ستمبر 2025 کو شاہی عدالت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کی گئی۔ یہ فیصلہ سعودی عرب کے مذہبی اور علمی اداروں کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ یہ تقرری سابق مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللّٰہ آل الشیخ کے انتقال کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ ان کی وفات کے بعد یہ اہم عہدہ خالی ہو گیا تھا۔
شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کو سعودی عرب کے سب سے بڑے دینی و فقہی منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور باوقار ذمہ داری ہے۔ ان کی ذمہ داریوں میں علما کی سینئر کونسل کی سربراہی اور مستقل کمیٹی برائے اسلامی تحقیق کی قیادت شامل ہے۔ وہ مذہبی و فقہی رہنمائی فراہم کریں گے۔
شیخ صالح اہم مسائل پر مستند فتوے جاری کریں گے اور دینی گفتگو و بیانیے کو منظم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ ان کے وسیع علمی تجربے کا ثبوت ہے۔ شیخ صالح بن حمید 1950 میں سعودی عرب کے شہر بریدہ، صوبہ قصیم میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھی ایک ممتاز اسلامی عالم تھے۔
انہوں نے کم عمری میں ہی قرآن پاک حفظ کر لیا۔ ابتدائی تعلیم بریدہ میں حاصل کی اور پھر مکہ مکرمہ منتقل ہو کر ثانوی تعلیم مکمل کی۔ جامعہ ام القریٰ سے شریعت میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں، فقہ و اصول الفقہ میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔
شیخ بن حمید کو 2007 میں اسلامی فقہ اکیڈمی میں سعودی عرب کا نمائندہ مقرر کیا گیا۔ اسی سال وہ اکیڈمی کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ انہیں دو مقدس مساجد کے نائب صدر اور صدرِ عام برائے امور حرمین بھی مقرر کیا گیا۔ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔
وہ تاریخ میں پہلے ایسے امام ہیں جنہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے ساتھ 1403 ہجری میں مسجد الحرام میں امامت کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ ان کی علمی قابلیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 2009 میں انہوں نے شوریٰ کونسل کے چیئرمین، سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ اور شاہی دیوان کے مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ 2011 میں انہوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی چھوڑ دی۔
اس کے بعد وہ وزیر کے درجے پر شاہی دیوان میں مشیر مقرر ہوئے۔ ان کے یہ تمام عہدے ان کی قابلیت اور اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ شیخ بن حمید نے تدریسی سفر جامعہ ام القریٰ سے شروع کیا، جہاں وہ فقہ کے لیکچرار رہے۔ انہوں نے اسلامی معیشت کے شعبے کی سربراہی بھی کی۔
وہ گریجویٹ اسٹڈیز سینٹر کے ڈائریکٹر، شریعہ کالج برائے گریجویٹ اسٹڈیز کے ڈین اور شریعہ کالج کے ڈین کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کی علمی خدمات بے شمار ہیں۔ شیخ بن حمید نے کئی علمی کتابیں اور تحقیقی مقالات تحریر کیے ہیں۔ ان کی نمایاں کتب میں “رفع الحرج فی الشریعة الإسلامیة” اور “الفقہ الکامل للنوازل” شامل ہیں۔
ان کی دیگر اہم تصانیف میں “خطب المسجد الحرام”، “الحوار وضوابطه”، “الأسرة السعیدة”، “الخلاف بین الزوجین” اور “الاجتهاد الجماعی وأھمیتہ فی النوازل المعاصرة” شامل ہیں۔ یہ کتب اسلامی فقہ اور معاشرتی مسائل پر گہری بصیرت فراہم کرتی ہیں۔
2016 میں شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید کو خدمتِ اسلام کے اعتراف میں شاہ فیصل انٹرنیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ ایک عالمی سطح کا معتبر اعزاز ہے۔ یہ ایوارڈ انہیں اسلامی فقہ اکیڈمی میں ان کے قائدانہ کردار، حکمت و بصیرت اور جدید فقہی مسائل میں ان کی مثبت علمی رہنمائی پر دیا گیا۔ یہ ان کی عالمی پہچان کا ثبوت ہے۔
مبصرین کے مطابق شیخ صالح بن حمید کی تقرری سعودی عرب کے مذہبی اداروں میں ایک نئی فکری جہت لے کر آئے گی۔ ان کی قیادت میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔ عالمی سطح پر بھی اسلامی فقہ و رہنمائی کے میدان میں ان کی خدمات کو مزید وسعت ملے گی۔ ان کا وسیع تجربہ اور علمی گہرائی اسلامی دنیا کے لیے ایک اثاثہ ہے۔


