کیا I Love Mohammad کہنا جرم ہے؟ محبتِ رسول ﷺ پر پابندی؟ ملک بھر میں مسلمانوں کے مظاہروں کے بعد حکام کی غیرضروری کاروائی پر تشویشناک رپورٹ! (ضرور پڑھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کیا ہندوستان میں اب نبی اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار کرنا جرم بن گیا ہے؟ میڈیا کے مطابق ایک رپورٹ نے ہندوستان میں مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ہم سب کو اس پر غور کرنا چاہیے۔

کانپور میں ‘آئی لو محمد’ کے بینر پر پولیس کارروائی کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ یہ مظاہرے میلاد جلوس کے دوران ہوئے، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ بعض مقامات پر پرامن مظاہروں کے خلاف حکام کی جانب سے غیرضروری طور پر سخت کاروائی کی گئی جس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔

ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (APCR) کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں اب تک 21 ایف آئی آر درج کی گئیں۔ ان میں 1,324 مسلمانوں کو نامزد کیا گیا اور 38 گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اتر پردیش میں 16 ایف آئی آر اور 1,000 سے زائد افراد پر مقدمات درج ہوئے۔

اتراکھنڈ میں 401 افراد پر مقدمہ درج ہوا اور 7 گرفتاریاں ہوئیں۔ گجرات میں 88 افراد پر مقدمہ درج ہوا اور 17 گرفتاریاں ہوئیں۔ مہاراشٹر کے بائیکلہ میں بھی ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔

APCR کے قومی سیکرٹری ندیم خان نے اسے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار کرنے والوں کو نشانہ بنانا امتیازی سلوک ہے۔ ان کے مطابق، پرامن مذہبی اظہار کو کبھی بھی مجرمانہ فعل نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

APCR نے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کی منصوبہ بندی کی ہے۔ وہ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن یا پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ APCR کے وکیل محمد عمران خان نے کہا کہ ایک بینر یا پرامن نعرہ جرم کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ امن و امان کے بہانے سینکڑوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرنا غیر متناسب اور متعصبانہ ہے۔ یہ کارروائیاں آئینی آزادیوں پر براہ راست حملہ ہیں۔

ملک بھر کے مسلمان اسے صرف ایک رپورٹ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے بنیادی حقوق پر حملہ تصور کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں