حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد کی تین نابالغ طالبات نے 19 ستمبر کو اپنے والدین کو بتایا کہ وہ اسکول میں بتکماں کی تقریب میں جا رہی ہیں، لیکن وہ اسکول جانے کے بجائے ایک نوجوان سے ملنے عثمانیہ یونیورسٹی کے علاقے میں پہنچ گئیں۔ وہاں انہوں نے 19 سالہ نوجوان مادھو سے ملاقات کی۔ مادھو نے اپنے دو دوستوں کو طلب کیا اور تینوں لڑکیوں کو یادگیری گٹہ کے ایک لاج میں لے گئے، جہاں تینوں نوجوانوں نے تین نابالغ اسکولی طالبات کی عصمت ریزی کی۔
طالبات کے اسکول نہ پہنچنے کی اطلاع جب والدین کو ملی تو انہوں نے فوری طور پر پولیس میں اس کی شکایت درج کرائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا تاہم 21 تاریخ کو ملزمان نے لڑکوں کو سکندرآباد علاقہ میں چھوڑ کر فرار ہوگئے، جس کے بعد لڑکیوں نے والدین کو فون کیا تو یہ سارا معاملہ سامنے آیا۔
پہلے تو بچیوں نے کچھ نہیں بتایا لیکن والدین کے سختی سے پوچھنے پر بچیوں نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی پوری کہانی سنائی۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ان پر پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ قانون بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔
پولیس نے لاج کے مالک سومیش کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس نے نابالغ بچیوں کو کمرہ دیا تھا، حالانکہ اسے ان کی عمر کا علم تھا۔ اسے بھی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔


