حیدرآباد (دکن فائلز) مرتد و ملعون سلمان رشدی کی ایک کتاب نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا تھا، آج اس متنازعہ و توہین آمیز کتاب “دی سیٹانک ورسز” پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو سلمان رشدی کے متنازعہ ناول “دی سیٹینک ورسیس” پر پابندی لگانے کی ہدایت دینے کی درخواست پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔
عرضی گزاروں کے وکیل نے دہلی ہائی کورٹ کے گزشتہ سال نومبر کے حکم کا حوالہ دیا۔ ہائی کورٹ نے 1988 میں اس متنازعہ کتاب کی درآمد پر پابندی لگانے کے راجیو گاندھی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ایک درخواست پر کارروائی کو بند کر دیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق ملعون سلمان رشدی، ایک ہندوستانی نژاد مصنف، نے 1988 میں اپنی کتاب “دی سیٹانک ورسز” لکھی۔ اس کتاب میں اسلام کی توہین کی گئی تھی۔ کتاب کی اشاعت کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے اسے توہین آمیز قرار دیا۔ اس کے نتیجے میں شدید احتجاج اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔
اس عالمی ردعمل کے پیش نظر، 1988 میں راجیو گاندھی حکومت نے “دی سیٹانک ورسز” کی درآمد پر پابندی عائد کر دی۔ یہ فیصلہ امن و امان کے اسباب کی بنا پر کیا گیا تھا۔ یہ کتاب اس وقت سے ہی تنازعات کا شکار رہی ہے۔
حال ہی میں، سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی جس میں “دی سیٹانک ورسز” پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ کتاب اب دستیاب ہے۔ ایڈوکیٹ چاند قریشی کے ذریعے دائر کی گئی اس درخواست میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک سابقہ حکم کا حوالہ دیا گیا۔
جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ مہتا پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے اس درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کے دلائل کو مسترد کر دیا۔ بینچ نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے 1988 کی درآمدی پابندی کو چیلنج کرنے والی کارروائی بند کر دی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ نے اپنے نومبر کے حکم میں کہا تھا کہ چونکہ حکام متعلقہ نوٹیفکیشن پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے یہ فرض کیا جائے گا کہ وہ موجود نہیں ہے۔ اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے موجودہ درخواست کو خارج کر دیا۔


