حیدرآباد (دکن فائلز) بریلی میں ایک پرامن احتجاج اچانک اچانک ہنگامہ کی نذر ہوگیا۔ اس دوران پولیس کاروائی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 ستمبر 2025 کو بریلی، اتر پردیش میں مولانا توقیر کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ یہ مظاہرہ ‘آئی لو محمد’ مہم سے متعلق ایف آئی آرز کی منسوخی کا مطالبہ کرنے کے لیے تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد مظاہرین ایک یادداشت پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
یہ احتجاج شروع میں پرامن تھا، جس کا مقصد حکام تک اپنی بات پہنچانا تھا۔ مظاہرین صرف ان ایف آئی آرز پر نظرثانی کا مطالبہ کر رہے تھے جو اس مہم کے سلسلے میں درج کی گئی تھیں۔ صورتحال اس وقت کشیدہ ہو گئی جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کئی مظاہرین کو زد و کوب ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ کچھ مظاہرین نے پتھراؤ شروع کر دیا تھا، جس کے بعد انہیں طاقت کا استعمال کرنا پڑا۔ امن بحال کرنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس (RAF) اور پراونشل آرمڈ کانسٹیبلری (PAC) کو بھی طلب کیا گیا۔ پولیس کاروائی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ احتجاج کانپور میں ‘آئی لو محمد’ کے بینرز ہٹانے کے خلاف کارروائی کے ردعمل میں تھا۔ یہ واقعات مذہبی جذبات کے اظہار پر حکام کے سخت رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ ان بے بنیاد ایف آئی آرز کو واپس لیا جائے۔
وہیں اس مظاہرہ کو لیکر گودی میڈیا میں انتہائی نفرت انگیز بیانات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی مسلمانوں کے احتجاج کو غلط اور غیرقانونی ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تبصروں کے ساتھ رپورٹنگ کی جارہی ہے۔
پولیس نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔


