حیدرآباد میں بارش کا قہر: موسیٰ ندی کی سطح میں خطرناک اضافہ، ایم جی بی ایس میں درجنوں مسافر پھنس گئے، ایک ہزار افراد امدادی کیمپوں میں منتقل، انتظامیہ الرٹ

حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد میں موسیٰ ندی کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا جس کے بعد تشویشناک صورتحال پیدا ہوگئی۔ شہر کا سب سے بڑا بس اسٹیشن، مہاتما گاندھی بس اسٹیشن (MGBS)، پانی میں ڈوب گیا، جہاں سے سینکڑوں مسافروں کو ڈرامائی انداز میں بچایا گیا۔

آدھی رات کے بعد موسیٰ ندی میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھ گئی۔ حمایت ساگر اور عثمان ساگر سے بڑے پیمانے پر پانی چھوڑے جانے کے بعد MGBS کے دونوں پل زیر آب آ گئے۔ اس سے بڑی تعداد میں مسافر پھنس گئے۔ حکام نے فوری طور پر بس خدمات روک دیں اور پھنسے ہوئے مسافروں کو بچانے کے لیے آپریشن شروع کیا۔ حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس اور اثاثہ پروٹیکشن ایجنسی (HYDRAA) اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) کی ٹیمیں پولیس اور فائر سروسز کے ساتھ میدان میں اتریں۔

موسیٰ ندی کا پانی رہائشی کالونیوں میں داخل ہو گیا۔ شنکر نگر، کمل نگر، ونائکا ویدی، موسیٰ نگر، چادر گھاٹ، ملک پیٹ، عنبرپیٹ، پدما نگر و دیگر علاقوں سے تقریباً 1,000 افراد کو امدادی کیمپوں میں منتقل کیا گیا۔ چادر گھاٹ کاز وے مکمل طور پر زیر آب آ گیا۔

موسیٰ رام باغ کا پرانا پل بھی پانی میں ڈوب گیا، جو پہلے ہی ٹریفک کے لیے بند تھا۔ گزشتہ چند دنوں کی شدید بارشوں کے بعد عثمان ساگر اور حمایَت ساگر میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ حکام نے سیلابی پانی کو نیچے کی طرف چھوڑنے کے لیے 24 گیٹ کھول دیے۔ جمعہ کی رات تک پانی کا اخراج 35,000 کیوسک تک پہنچ گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ موسیٰ ندی میں حالیہ دنوں میں پانی کی ایسی سطح نہیں دیکھی گئی۔ یہ صورتحال 1908 کی طغیانی کی یاد دلاتی ہے، جب تقریباً 15,000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس تباہی کے بعد ہی نظام میر عثمان علی خان نے سیلاب سے بچاؤ کے لیے عثمان ساگر اور حمایَت ساگر کی تعمیر کی تھی۔

موسیٰ ندی میں پانی کا یہ بہاؤ غیر معمولی ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے سے پانی کی سطح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے حکام کو پھنسے ہوئے مسافروں کو بحفاظت نکالنے کی ہدایت کی۔

تلنگانہ اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن (TGSRTC) نے MGBS آنے والی بسوں کو شہر کے دیگر مقامات پر موڑ دیا۔ یہ حیدرآباد کے لیے ایک غیر معمولی اور تشویشناک صورتحال ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں