بابری مسجد کی تعمیر ہی بےحرمتی تھی؟ سابق چیف جسٹس چندر چوڑ کے متضاد و متنازعہ بیان سے ملک بھر میں تشویش کی لہر، عدالتوں کے کام کاج پر اٹھ رہے ہیں سوال (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ایک سابق چیف جسٹس کے بیانات عدالتی فیصلوں سے متصادم ہونے پر عدالیہ اور ججوں کی کارکردگی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے انٹرویو نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے بیانات نے عدالتی فیصلوں کی تشریح پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جسٹس چندرچوڑ کا کہنا ہے کہ 16ویں صدی میں بابری مسجد کی تعمیر بذات خود ایک بےحرمتی تھی۔ یہ بیان 2019 کے ایودھیا فیصلے کے بالکل برعکس ہے۔ چندرچوڑ نے بابری مسجد کی بے حرمتی کے سوال پر حیران کن جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کی تعمیر ہی اصل بے حرمتی تھی۔ یہ بیان سپریم کورٹ کے فیصلے سے متصادم ہے۔

عدالتی فیصلے میں یہ واضح تھا کہ کسی پرانی عمارت کو گرا کر مسجد نہیں بنائی گئی تھی۔ ان کا یہ موقف کئی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ یہ عدالتی فیصلوں کی تشریح پر سوال اٹھاتا ہے۔ جسٹس چندرچوڑ اس پانچ رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے ایودھیا کی متنازع زمین پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی تھی۔ تاہم، اُس وقت عدالت نے کہا تھا کہ آثار قدیمہ کی رپورٹ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسجد کسی پرانی عمارت کو گرا کر بنائی گئی تھی۔

اب ایک انٹرویو میں جسٹس چندرچوڑ نے آثار قدیمہ کے شواہد کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھدائی سے کافی شواہد ملے تھے، اگرچہ ان کی قانونی حیثیت ایک الگ معاملہ ہے۔ صحافی سری نیواسن جین کے سوال پر کہ ہندوؤں کے غیر قانونی اقدامات بھی تنازع کی وجہ تھے، جسٹس چندرچوڑ نے کہاکہ “جب آپ کہتے ہیں کہ ہندوؤں نے اندرونی صحن کی بےحرمتی کی، تو اُس بنیادی بےحرمتی کا کیا جس کا آغاز مسجد کی تعمیر سے ہی ہوا؟”

دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا تھا کہ صرف اے ایس آئی کی رپورٹ ملکیت ثابت نہیں کر سکتی۔ فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا تھا کہ 12ویں صدی کے ڈھانچے اور 16ویں صدی کی مسجد کے درمیان صدیوں کا خلا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں کہ پرانا ڈھانچہ مسجد کی تعمیر کے لیے گرایا گیا تھا۔ جسٹس چندرچوڑ کا حالیہ بیان اس عدالتی موقف سے متصادم نظر آتا ہے۔

جسٹس چندرچوڑ نے گیانواپی مسجد کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سپریم کورٹ نے سروے کی اجازت کیوں دی، حالانکہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون کے تحت ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق، وہاں عبادت گاہ کا مذہبی کردار طے شدہ نہیں تھا۔

چندر چوڑ کے تازہ بیانات سے ان کے دورِ چیف جسٹس کے بارے میں گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں