حیدرآباد (دکن فائلز) تمل ناڈو میں ایک وحشیانہ واقعہ جس میں پولیس، جو معاشرے کی حفاظت کرتی ہے، اسی کے دو اہلکاروں نے ایک نوجوان لڑکی کی عصمت ریزی کرکے پورے سماج کو شرمندہ کردیا۔ دو پولیس اہلکاروں کی جانب سے آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ لڑکی کی عصمت دری کا غیر انسانی واقعہ ترووناملائی (اروناچلم) میں سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ لڑکی ٹماٹر لے جانے والی گاڑی میں سفر کر رہی تھی۔ پیر کی رات، سندر اور سریش راج نامی دو کانسٹیبل، جو اینتھل بائی پاس پر ڈیوٹی کررہے تھے، نے جانچ کے لیے گاڑی کو روکا۔ وہ گاڑی میں موجود نوجوان لڑکی سے پوچھ گچھ کے لیے اسے زبردستی نیچے اتارا، یہ کہتے ہوئے کہ انھیں اس پر شک ہے۔
بعد میں اسے قریب کے کھیتوں میں گھسیٹ کر لے گئے اور دو کانسٹیبلوں نے اس کی اجتماعی عصمت دری کی۔ نوجوان لڑکی کے چیخنے پر قریب میں موجود لوگ وہاں پہنچے جس کے بعد کانسٹیبل وہاں سے فرار ہوگئے۔ مقامی لوگوں نے متاثرہ کو بچایا اور اسے ایمبولینس میں ترووننمائی سرکاری اسپتال لے گئے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایس پی اسپتال پہنچے اور متاثرہ سے تفصیلات اکٹھی کیں۔ اس ظلم میں ملوث دو کانسٹیبلوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور انہیں پکڑنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ اس طرح کی گھناؤنی حرکتوں کا ارتکاب کرنے والے اہلکاروں کے خَاف بڑے پیمانے پر غصہ کا اظہار کیا جارہا ہے۔


