’وہ مسلمان ہے، اسے کہیں اور لے جاؤ‘: مسلم دشمنی میں دھت ڈاکٹر نے حاملہ مسلم خاتون کا علاج کرنے سے انکار کردیا! حیوانیت کی تمام حدیں پار (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) کیا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ملک میں فرقہ پرستی کا زہر کس طرح پھیلتا جارہا ہے۔ ایک ڈاکٹر نے مسلم دشمنی کے چلتے حیوانیت کی ساری حدیں پار کردیں۔ ایسا ہی ایک انتہائی شرمناک و دل دہلا دینے والا واقعہ اترپردیش کے لکھنو میں پیش آیا۔

دکن ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق 30 ستمبر کی رات، شمع پروین نامی خاتون کو ضلع کے خواتین ہسپتال لایا گیا۔ ان کے شوہر محمد نواز اپنی اہلیہ کی حالت دیکھ کر شدید پریشان تھے۔ محمد نواز نے ڈیوٹی پر موجود لیڈی ڈاکٹر سے بار بار درخواست کی کہ وہ ان کی اہلیہ کو چیک کریں، لیکن جو کچھ ہوا وہ ناقابل یقین اور انتہائی افسوسناک تھا۔

محمد نواز کے مطابق، لیڈی ڈاکٹر نے مبینہ طور پر شمع پروین کو چیک کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مسلمان ہے، اسے کہیں اور لے جاؤ’۔ ڈاکٹر نے حاملہ مسلم خاتون کا علاج کرنے سے ‘انکار’ کر دیا۔ محمد نواز نے الزام عائد کیا کہ خاتون ڈاکٹر نے ان کی اہلیہ کا علاج کرنے سے صرف اس لئے انکار کردیا کیونکہ وہ مسلمان ہیں۔

محمد نواز ڈاکٹر سے التجا کرتے رہے لیکن شدت پسند و فرقہ پرست خاتون ڈاکٹر نے مذہب کی بنیاد پر حاملہ خاتون کو چیک نہیں کیا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جب ایک مریض کو سب سے زیادہ طبی امداد کی ضرورت تھی۔ ہسپتال میں موجود ہونے کے باوجود، ایک خاتون کو علاج سے محروم رکھا گیا۔

ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1974027347801018802

یہ نہ صرف طبی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانیت کی بھی توہین ہے۔ ایک ڈاکٹر کا فرض ہے کہ وہ بلالحاظ مذہب ہر مریض کا علاج کریں۔ محمد نواز نے اپنی اہلیہ کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ایسا رویہ کسی بھی مریض کے ساتھ نہیں ہونا چاہیے۔

ان کا درد اور غصہ بالکل جائز ہے۔ یہ واقعہ ملک میں بڑھتے ہوئی فرقہ پرستی کا عکاس ہے جو ہمارے وطن عزیز کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے۔ فرقہ پرست حب الوطنی کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن مذہب کی آڑ میں ملک کو توڑنے اور نقصان پہنچانے کی سازش کررہے ہیں۔

ملک بھر میں اس واقعہ کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ لوگوں نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ دار افراد کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا۔ ٹھہرایا جائے۔ ایسے واقعات سے عوام کا حکومت اور انتظامیہ سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔ ہر شہری کو عزت اور مناسب طبی امداد کا حق حاصل ہے۔ یہ واقعہ ایک یاد دہانی ہے کہ ہمیں اپنے ملک میں بھائی چارگی کو فروغ دینے کی اشد ضرور ہے اور فرقہ پرستوں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں