انتہائی افسوسناک حادثہ: کرناٹک کے ڈیم پر مسلم خاندان کے چھ افراد بہہ گئے

حیدرآباد (دکن فائلز) کرناٹک کے مارکوناہلی ڈیم پر ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں چھ افراد پانی کے تیز بہاؤ میں بہہ گئے۔ یہ خبر سن کر ہر کوئی صدمے میں ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ منگل کے روز پیش آیا جب تماکورو سے 15 افراد کا ایک گروپ پکنک منانے ڈیم پر پہنچا۔ ان میں سے سات افراد، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، پانی میں اترے۔

اچانک ڈیم کا سائفن سسٹم کھل گیا اور پانی کا تیز بہاؤ شروع ہو گیا۔ اس غیر متوقع صورتحال نے ساتوں افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور وہ بہہ گئے۔

پولیس اور فائر بریگیڈ کی امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئیں۔ ایک شخص، جس کی شناخت نواز کے نام سے ہوئی، کو بچا لیا گیا اور ہسپتال منتقل کیا گیا۔

افسوسناک طور پر، دو لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں اور ان کی شناخت عربین (30) اور شاذیہ (32) کے طور پر کی گئی، جبکہ چار افراد کی تلاش جاری ہے تبسم (45)، شبانہ (44)، مفرا (4) اور ایک سالہ ماہب سمیت دیگر کی تلاش جاری ہے۔ فائر بریگیڈ اور مقامی پولیس کی ٹیموں نے شام تک تلاش جاری رکھی۔

تلاشی مہم کو عارضی طور پر روک دیا گیا ہے اور بدھ کی صبح دوبارہ شروع کی جائے گی۔ یہ خاندان ایک خوشگوار دن گزارنے آیا تھا جو غم میں بدل گیا۔

ڈیم کے انجینئرز کے مطابق، یہ واقعہ پانی کے قدرتی بہاؤ میں اچانک اضافے کی وجہ سے پیش آیا۔ تاہم، سائفن سسٹم کے اچانک کھلنے کی اصل وجہ کی تحقیقات کی جائیں گی۔

برآمد شدہ لاشوں کو پوسٹ مارٹم اور شناخت کے لیے ہسپتال میں رکھا گیا ہے۔ حکام اس واقعے کی گہرائی سے چھان بین کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں