حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) غزہ میں جاری جنگ بندی مذاکرات ایک نئے موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔ حماس نے مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی انخلا سمیت اہم شرائط پیش کر دی ہیں۔ مصر میں غزہ امن مذاکرات جاری ہیں، جہاں حماس نے اپنی بنیادی شرائط پیش کی ہیں۔ ان مطالبات میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا شامل ہے۔ یہ مذاکرات غزہ کے عوام کی امنگوں کو پورا کرنے کی کوشش ہیں۔
حماس کے ترجمان فوزی برہوم نے کہا کہ ان کا وفد تمام رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے اہم مطالبات میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی بھی شامل ہے۔ بے گھر افراد کی واپسی اور غزہ کی تعمیر نو کا فوری آغاز بھی ایجنڈے پر ہے۔
حماس نے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کے لیے عالمی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا ایک منصفانہ معاہدہ بھی ضروری ہے۔ یہ شرائط غزہ میں پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک سینئر حماس عہدیدار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے دن اسرائیلی افواج کے انخلا کے نقشوں پر توجہ مرکوز تھی۔ حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو اسرائیلی فوج کے انخلا سے منسلک کرنے پر زور دیا۔ آخری قیدی کی رہائی قابض افواج کے مکمل انخلا کے بعد ہی ہونی چاہیے۔
فوزی برہوم نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پر مذاکرات کو ناکام بنانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو پہلے بھی ایسے مراحل کو سبوتاژ کر چکے ہیں۔ حماس کا مؤقف ہے کہ وحشیانہ فوجی طاقت کے باوجود اسرائیل جھوٹی فتح حاصل نہیں کر پائے گا۔ حماس نے غزہ میں نسل کشی کی جنگ میں امریکی شراکت داری پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ لامحدود حمایت کے باوجود اسرائیل اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ یہ بیانات مذاکرات کے دوران حماس کے مضبوط مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
مصر اور قطر کے ثالث دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔ ان کا مقصد قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک طریقہ کار قائم کرنا ہے۔ یہ مذاکرات انتہائی سخت سیکیورٹی میں بند کمروں کے اندر ہو رہے ہیں۔ حماس کے وفد کی قیادت سینئر مذاکرات کار خلیل الحیہ کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات قطر میں حماس کے اہم مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کے چند ہفتے بعد ہو رہے ہیں۔ مصری انٹیلی جنس حکام سے بھی حماس کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے۔


