حیدرآباد کے پرانے شہر میں مسلم نوجوان پر نام پوچھ کر حملہ، مغلپورہ پولیس کے رویہ پر امجد اللہ خان کی تنقید (حملہ کا ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) ایک 17 سالہ ڈیلیوری بوائے پر کچھ فرقہ پرستوں نے مبینہ طور پر وحشیانہ حملہ کردیا، جبکہ مسلم نوجوان نے الزام عائد کیا کہ اس کا نام پوچھ کر حملہ کیا گیا کیونکہ وہ ایک مسلمان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد ندیم القریشی، ایک 17 سالہ ڈیلیوری بوائے، حیدرآباد کے پرانے شہر میں اپنے کام پر تھا۔ 7 اکتوبر کی شام اچانک بارش کے بعد بارش سے بچنے کےلئے سلطانی شاہی میں واقع ایک گھر کے نیچے کھڑا ہوا، جس پر مالک مکان نے اعتراض کیا۔

محمد ندیم نے الزام عائد کیا کہ پہلے اس کا نام پوچھا گیا اور میرا نام محمد ندیم سن کر 3 لوگوں نے حملہ کردیا۔ حملہ میں ندیم کے چہرے پر شدید چوٹیں آئیں، ہونٹ اور ناک سے خون بہنے لگا۔ اس حملے میں ندیم کا ایک سامنے والا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ یہ ایک غیر انسانی اور بزدلانہ فعل تھا۔

مجلس بچاؤ تحریک کے ترجمان امجد اللہ خان کا دعویٰ ہے کہ حملہ آوروں نے پہلے ندیم کا نام پوچھا۔ اس کے مسلمان ہونے کا علم ہوتے ہی انہوں نے اسے بری طرح مارا۔ انہوں نے اس اسے فرقہ وارانہ طور پر مسلم نوجوان کو نشانہ بنانے کا واقعہ قرار دیا۔

مغل پورہ پولیس نے ندیم کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تاہم امجد اللہ خان کا الزام ہے کہ پولیس نے FIR سے فرقہ وارانہ پہلو کو ہٹا دیا ہے اور حملہ آوروں کو بچانے کےلئے ضمانتی دفعات لگائی ہیں۔ امجد اللہ خان نے حیدرآباد پولیس کمشنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں۔

وہیں پولیس کے مطابق ایک حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے اور تفتیش جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں