اسرائیلی وزیر کی اشتعال انگیزی: بن گویر نے بیت المقدس کے احاطہ میں تلمودی رسومات انجام دیں، سعودی عرب کا شدید ردعمل!

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) اسرائیل کا انتہاپسند وزیر ایتمار بن گویر جو اسرائیل کے دائیں بازو کا لیڈر ہے، نے ایک بار پھر پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں مسجد اقصیٰ کے صحن میں گھس آیا ۔ حماس نے اس واقعہ کو “اشتعال انگیز” حربہ قرار دیا۔

فلسطینی خبر ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق بن گویر کی قیادت میں درجنوں یہودی آبادکاروں نے باب المغاربہ(مراکشی دروازے) کے راستے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو کر دورہ کیا اور تلمودی رسومات انجام دیں۔ یہ واقعہ یہودیوں کے مذہبی تہوار “عید العرش” کے دوسرے دن پیش آیا۔

آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں اپنی مذہبی رسومات کے حصے کے طور پر پودوں کی قربانیاں بھی اٹھا رکھی تھیں۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حکام اور یہودی آبادکاروں کے داخلے پر سعودی عرب نے شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ اسلام کے مقدس ترین مقامات میں سے ایک کی حرمت کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے ان کارروائیوں کو اسرائیلی قبضے کے فوجی تحفظ میں قرار دیا۔ مملکت نے مسجد اقصیٰ کی حرمت پر مسلسل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

سعودی عرب ہر اس اقدام کو مسترد کرتا ہے جو القدس اور اس کے مقدس مقامات کے تاریخی و قانونی درجے کو نقصان پہنچائے۔ یہ اقدامات عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

وزارت نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی قابض حکام کو جوابدہ ٹھہرائے۔ یہ مطالبہ اسلامی مقدس مقامات کی توہین اور فلسطینی شہریوں پر مظالم کے تناظر میں کیا گیا۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر ایتامار بن گویر نے چہارشنبہ 8 اکتوبر 2025 کو مسجد اقصیٰ میں زبردستی گھس آیا اور یہاں آکر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’یہودی قوم ہی اس مقام کی مالک ہے‘۔

بن گویر نے غزہ میں مکمل فتح اور حماس کی تباہی کا نہ پورا ہونے والا خواب بھی دیکھا۔ یہ اشتعال انگیز بیان مسجد اقصیٰ کے اسٹیٹس کو کو چیلنج کرنے والا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں