حیدرآباد (دکن فائلز) مقامی ادارہ جات کے انتخابات میں بی سی ریزرویشن پر تلنگانہ ہائی کورٹ کا ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ تلنگانہ میں مقامی اداروں میں پسماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن کا معاملہ ہمیشہ سے حساس رہا ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں جی او نمبر 9 جاری کیا تھا، جس کا مقصد ان ریزرویشنز کو نافذ کرنا تھا۔
تاہم، اس حکومتی حکم نامے پر کئی حلقوں کی جانب سے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔ ان اعتراضات کے بعد، یہ معاملہ تلنگانہ ہائی کورٹ تک پہنچا، جہاں اس پر غور کیا گیا۔
تلنگانہ ہائی کورٹ نے جی او نمبر 9 کے نفاذ پر عبوری حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، حکومت کے جاری کردہ اس حکم نامے پر عمل درآمد عارضی طور پر روک دیا گیا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ پٹیشنرز کی درخواست پر سنایا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فی الحال مقامی اداروں میں بی سی ریزرویشنز کے حوالے سے جی او نمبر 9 کے تحت کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو چار ہفتوں کے اندر اپنا جوابی حلف نامہ (کاؤنٹر) داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکومت کے لیے اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع ہے۔
پٹیشنرز کو حکومتی جواب پر اعتراضات داخل کرنے کے لیے مزید دو ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ یہ قانونی عمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
عدالت نے بی سی ریزرویشنز سے متعلق اس پٹیشن کی آئندہ سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ اس دوران تمام فریقین کو اپنی تیاری کا وقت ملے گا۔
یہ فیصلہ مقامی اداروں میں بی سی ریزرویشنز کے نفاذ پر عارضی طور پر اثر انداز ہوگا۔ تمام فریقین کی نظریں اب آئندہ سماعت پر مرکوز ہیں۔
شیڈول کے مطابق ریاست میں بلدیاتی انتخابات کے لیے نامزدگیوں کی وصولی کا عمل جمعہ سے شروع ہونا تھا۔ تاہم ہائی کورٹ کے تازہ احکامات سے یہ سلسلہ مکمل طور پر ٹھپ ہوگیا ہے۔ جس کی وجہ سے انتخابات کے مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ انتخابی عمل کا انحصار آئندہ سماعت پر عدالت کے فیصلے پر ہوگا۔


