بڑی خبر : اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کر دیا، کئی علاقوں سے فوج کا انخلا شروع، مظلوم فلسطینیوں کا جشن

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) غزہ میں طویل اسرائیلی بربریت کے بعد بالآخر جنگ بندی کا اعلان ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگ بندی کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں حماس کے 11 قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی افواج نے غزہ کے اندر طے شدہ لائن سے پیچھے ہٹنا شروع کر دیا ہے۔

قبل ازیں غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ جمعہ دوپہر 12 بجے باضابطہ طور پر نافذ ہوگیا، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب قابض اسرائیلی حکومت نے مصر کے شہر شرم الشیخ میں طے پانے والے معاہدے کی توثیق کی۔ قابض اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ جنگ بندی معاہدہ دوپہر 12 بجے سے نافذالعمل ہو چکا ہے اور اس کے تحت قابض فوج نے اپنی فورسز کو نئی آپریشنل پوزیشنز پر منتقل کر دیا ہے۔ یہ اقدام جنگ بندی اور اسیران کے تبادلے سے متعلق طے شدہ انتظامات کے مطابق کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اب شہریوں کو غزہ کے جنوبی علاقوں سے شمالی حصوں تک الرشید سڑک اور صلاح الدین سڑک کے راستے آمد و رفت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ غزہ کے شہری اپنے گھروں کی جانب واپسی شروع کر چکے ہیں۔ کئی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا جزوی انخلا بھی جاری ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں ایک نئی امید کی کرن ہے۔

تازہ طور پر اسرائیلی کابینہ نے غزہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کے تبادلے کے معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اہم اجلاس میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ امریکی صدر کے داماد جیرڈ کُشنر بھی شریک تھے۔ امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، تمام اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ اسرائیلی فوج غزہ کے 53 فیصد حصے سے بتدریج انخلا کرے گی۔ معاہدے کے مطابق، حماس 72 گھنٹوں کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کرے گی۔

باقی مدت میں فریقین مکمل جنگ بندی کے نفاذ کو یقینی بنائیں گے۔ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں دونوں فریقین کو اپنے وعدوں پر قائم رہنا ہوگا۔ غزہ میں امن کے لیے کئی ماہ سے مذاکرات جاری تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا، جسے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے حمایت دی۔ اسرائیل نے بھی اس منصوبے کو قبول کر لیا۔

مصر میں حماس اور اسرائیلی حکام کے درمیان ثالثوں کے ذریعے بات چیت ہوئی، جس کے نتیجے میں یہ امن معاہدہ طے پایا۔ معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے 200 اہلکاروں پر مشتمل بین الاقوامی فورس تشکیل دی جائے گی۔ اس فورس میں مصر، قطر، ترکی اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کے فوجی شامل ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں