ایک اور مسلم لڑکی بھگوا لو ٹریپ کا شکار؟ صوفیہ پروین کا قتل، ایک لرزہ خیز کہانی!

حیدرآباد (دکن فائلز) بہار کے پٹنہ سے ایک دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی ہے جہاں 22 سالہ صوفیہ پروین عرف رخسار کو مبینہ طور پر تیسری منزل سے دھکا دے کر ہلاک کر دیا گیا۔ رخسار کے قتل کا الزام اس کے لیو اِن پارٹنر امیت کمار پر لگایا جارہا ہے جبکہ اس واقعہ پر سوال اٹھ رہے ہیں کہ ’کہیں یہ بھگوا لو ٹریپ کا معاملہ تو نہیں؟‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق اشوک پوری کے سوہو نرملا اپارٹمنٹس میں پیش آنے والے اس واقعے نے سب کو چونکا دیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں رخسار کو عمارت سے گرتے ہوئے اور قریبی اسکول کی باؤنڈری وال سے ٹکراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد وہ زمین پر گر کر دم توڑ گئی۔

پولیس کے مطابق، امیت کمار نے بعد میں رخسار کی لاش کو ایک آٹو رکشہ میں اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز پہنچایا۔ ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسے خون میں لت پت لاش کو اسٹریچر پر رکھتے اور پھر فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مناظر انتہائی خوفناک ہیں۔

رخسار کے خاندان کو اس کی موت کا علم ایک دوست کے ذریعے آن لائن خبر دیکھنے کے بعد ہوا۔ تین دن بعد انہوں نے ہسپتال کے مردہ خانے میں اس کی لاش کی شناخت کی۔ رخسار کی بہن شبانہ خاتون نے بتایا کہ امیت نے خود کو پولیس افسر ظاہر کیا تھا۔

شبانہ نے بتایا، “میری بہن نرسنگ کی تعلیم حاصل کر رہی تھی اور پٹنہ کے ایک نجی ہسپتال میں کام کرتی تھی۔ ایک دن وہ امیت کو گھر لائی اور بتایا کہ وہ اس کا دوست ہے۔” امیت نے پولیس میں ہونے کا دعویٰ کیا، اسکارپیو میں آیا، اور ہمارے گھر بتیہ میں رات گزاری۔ ہم نے اس کا بہت احترام کیا اور اس پر مکمل بھروسہ کیا۔” شبانہ نے رخسار کو اپنے خاندان کا “سب سے روشن اور خوش مزاج رکن” قرار دیا۔

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ امیت اور رخسار ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ایک ساتھ رہ رہے تھے۔ مکان مالک نے پولیس کو بتایا کہ امیت نے فلیٹ کرایہ پر لینے کے لیے جعلی آدھار کارڈ استعمال کیا، اور دعویٰ کیا کہ وہ شادی شدہ ہیں۔ مکان مالک نے کہا، “دستاویزات اصلی لگ رہے تھے، اس لیے میں نے ان کی دوبارہ جانچ نہیں کی۔” پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دستاویزات جعلی تھے۔

داناپور پولیس اسٹیشن میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور امیت کمار کی تلاش جاری ہے۔ حکام نے آٹو ڈرائیور کے لیے بھی لک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے جس نے رخسار کی لاش کو ہسپتال پہنچانے میں مدد کی۔ یہ ایک سنگین جرم ہے جس میں انصاف کا حصول ضروری ہے۔

اس ہولناک واقعے کو بھگوا لو ٹریپ سے جوڑکر دیکھا جارہا ہے کیوں نے امیت نے اپنی شناخت کو چھپایا تھا اور خود کو پولیس افسر ظاہر کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں