بڑی خبر: افغانستان اور پاکستان میں خوفناک جنگ شروع؟ سرحد پر بڑے پیمانہ پر بمباری و فائرنگ کا سلسلہ جاری، دونوں ممالک کے تقریباً 100 فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ، درجنوں چوکیاں تباہ، عالمی سطح پر تشویش

حیدرآباد (دکن فائلز) افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحد پر حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک کے درمیان خوفناک جنگ چھڑ گئی۔ سرحد پر دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر بمباری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ جنگ میں شدت آگئی ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے بتایا جارہا ہے کہ اس کے حملوں میں افغانستان کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ افغانستان کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ پاکستان کو زبردست جواب دیا گیا جس میں متعدد پاکستانی فوجی ہلاک ہوگئے۔

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد طالبان فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں 15 پاکستانی فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ ڈیورنڈ لائن کے قریب بہرام پور ضلع میں پیش آیا۔ ایک اور میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان حملہ میں 50 سے زائد پاکستانی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے جاری کاروائیوں میں دونوں طرف سے بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دونوں ممالک کے تقریباً 100 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق افغان فورسز نے پاک افغان سرحد پر 6 مقامات انگور اڈا، باجوڑ، کرم، دیر، چترال، اور بارام چاہ (بلوچستان) کے مقامات پر بِلا اشتعال فائرنگ کی، جس کے جواب میں پاکستانی فوج نے متعدد افغانی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس میں متعدد افغان فوجی ہلاک ہوگئے۔

وہیں افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ شب پاکستانی فورسز کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں 58 پاکستانی فوجی ہلاک اور 30 زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان افواج نے جوابی کارروائی کے دوران متعدد پاکستانی چوکیاں تباہ کیں اور کچھ ہتھیار عارضی طور پر اپنے قبضے میں لے لیے۔

ہلمند کے صوبائی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ افغان فورسز نے تین پاکستانی فوجی چوکیاں بھی قبضے میں لے لیں۔ انہوں نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی ضبط کیا۔ پاکستان نے کابل اور پکتیکا صوبوں میں فضائی حملے کیے تھے۔ ان حملوں کے بعد افغان فورسز نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ افغانستان نے پاکستان پر اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

ہلمند، قندھار، زابل، پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار اور کنڑ جیسے سرحدی صوبوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ افغان وزارت دفاع نے ان کارروائیوں کو “کامیاب” قرار دیا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پناہ دے رہا ہے۔ ٹی ٹی پی نے 2021 سے اب تک سینکڑوں پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔ اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستانی طالبان کو پناہ دینا بند کرے۔

کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور پاکستان پر اپنی سرزمین پر حملوں کا الزام لگاتا ہے۔ ٹی ٹی پی افغان طالبان کی نظریاتی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کو افغان طالبان سے کافی لاجسٹک اور آپریشنل مدد ملتی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع نے افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کی حمایت سے روکنے کی کوششوں کی ناکامی کا اعتراف کیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اب مزید یہ برداشت نہیں کرے گا۔ ٹی ٹی پی نے حال ہی میں شمال مغربی پاکستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس میں 20 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

یہ صورتحال خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ مزید تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن دبانا نہ بھولیں۔ اس اہم مسئلے پر اپنی آواز بلند کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں