حیدرآباد (دکن فائلز) عالمی رہنماؤں کی غیر رسمی گفتگو منظر عام پر آگئی۔ غزہ سربراہی اجلاس میں کچھ ایسا ہی ہوا، جب دو بڑے صدور کی نجی بات چیت مائیک پر ریکارڈ ہو گئی۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد ایک اہم عالمی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ اس میں کئی عالمی رہنما شریک تھے، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو بھی شامل تھے۔ یہ اجلاس امن معاہدے پر دستخط کے لیے بلایا گیا تھا۔
مصر کے شہر شرم الشیخ میں ٹرمپ نے خطاب کے بعد پرابوو سے غیر رسمی بات چیت کی۔ دونوں رہنما اس بات سے لاعلم تھے کہ ان کی گفتگو وہاں رکھے مائیک پر ریکارڈ ہو رہی ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں انہیں بات کرتے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، ریکارڈ شدہ گفتگو میں پرابوو سبیانتو نے ایک ایسے علاقے کا ذکر کیا جو سلامتی کے لحاظ سے محفوظ نہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اچانک ٹرمپ سے ایک اہم سوال کیا۔
پرابوو نے ٹرمپ سے پوچھا، “کیا میں ایرک سے ملاقات کر سکتا ہوں؟” یہ سوال سن کر ٹرمپ نے فوری جواب دیا۔ یہ لمحہ سب کے لیے غیر متوقع تھا۔
ٹرمپ نے پرابوو کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا، “میں ایرک کو فون کرنے کو کہوں گا، ٹھیک ہے؟ وہ بہت اچھا لڑکا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “میں اپنے بیٹے کو کہوں گا کہ آپ کو فون کرے۔”
صدر ٹرمپ کے جواب میں پرابوو نے کہا، “ہم اس کے لیے بہتر جگہ دیکھ لیں گے۔” اس پر ٹرمپ نے دوبارہ یقین دہانی کرائی، “میں ایرک کو کہوں گا کہ وہ آپ کو کال کرے۔”
ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر، دونوں ٹرمپ آرگنائزیشن میں ایگزیکٹو نائب صدور کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ کمپنی ریئل اسٹیٹ اور بلاک چین سے متعلق کاروباروں میں مصروف ہے۔ ان کی ملاقات کی درخواست نے سب کی توجہ حاصل کر لی۔
اس غیر متوقع گفتگو پر وائٹ ہاؤس اور واشنگٹن میں انڈونیشین سفارت خانے نے کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا۔ یہ واقعہ عالمی میڈیا میں زیر بحث رہا۔


