حیدرآباد (دکن فائلز) طوفان مونتھا نے تلنگانہ کے مختلف علاقوں میں تباہی مچارکھی ہے۔ طوفان کے اثر کی وجہ سے تلنگانہ کے کچھ اضلاع میں زبردست بارش ہوئی ہے۔ ورنگل، نلگنڈہ اور محبوب نگر موسلا دھار بارش کی زد میں ہیں۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں بھی موسلادھار بارش کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔شدید بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے زیادہ 41.2 سینٹی میٹر بارش ہنمکنڈہ کے بھیما دیوراپلی میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
تاریخی شہر ورنگل طوفان مونتھا کی زد میں آگیا۔ چہارشنبہ کو دن بھر شہر میں ہونے والی مسلسل بارش کے باعث شہر پانی میں ڈوب گیا۔ اہم شاہراہوں کے علاوہ کئی کالونیاں پانی میں ڈوب گئیں۔ بارش میں کچھ کمی ہونے کے باوجود بھی سیلابی پانی کم نہ ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
شہر کی 45 کالونیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ خاص طور پر سائی گنیش کالونی، سنتوشی ماتا کالونی، ڈی کے نگر، این این نگر اور مسایا نگر جیسے علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے سے لوگوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ تقریباً 30 کالونیوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔
ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوراً موقع پر پہنچ گئیں اور بچاؤ کام شروع کیا۔ نشیبی علاقوں میں پھنسے افراد کو کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہر بھر میں کل 12 بازآبادکاری مراکز قائم کیے ہیں جن میں ورنگل ایسٹ میں چھ مراکز بھی شامل ہیں۔ اب تک 1200 متاثرین کو ان کیمپوں میں منتقل کیا جا چکا ہے۔
موسلادھار بارش کی وجہ سے ورنگل اور ہنمکنڈہ کے درمیان ٹریفک مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ملوگ جانے والی سڑک کے نالے بھی بہہ رہے ہیں۔ ورنگل بلدیہ دفتر میں ہنگامی امداد کے لیے ٹول فری نمبر 1800 425 1980 قائم کیا گیا ہے۔ سات خصوصی ٹیمیں جن میں ڈی آر ایف، انجینئرنگ اور سینیٹری اہلکار شامل ہیں امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔
سیلاب کی شدت کے پیش نظر حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر مشترکہ ورنگل ضلع کے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (DEO) نے بتایا کہ اسکولوں میں منعقد ہونے والے SA-1 کے امتحانات بھی ملتوی کردیئے گئے ہیں۔


