حیدرآباد (دکن فائلز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو خبردار کیا ہے کہ اگر نائجیریا نے مسیحیوں کے مبینہ قتل عام پر قابو نہ پایا تو وہ فوج کو افریقی ملک کے خلاف ’فوجی کارروائی‘ کی تیاری کا حکم دے سکتے ہیں۔ غزہ قتل عام پر کچھ نہ کہنے والے ٹرمپ نے کہاکہ ’ہم نائیجیریا میں مسیحیوں کے قتل پر خاموش نہیں رہیں گے‘۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق کا نام نہاد چیمپئن امریکہ، دنیا بھر میں خود کو ‘انسانی حقوق کا علمبردار‘ قرار دیتا ہے۔ اگر واقعی ٹرمپ انتظامیہ انسانیت کی علمبردار ہے تو فلسطین میں اسرائیل کی بربریت کو کیوں نہیں روکا گیا۔ کیا 70 ہزار انسانوں کے قتل عام پر خاموش رہنے والوں کو انسانی حقوق و مہذب معاشرہ کا علمبردار کہلانے کا حق حاصل ہے؟
نائیجیریا میں مسیحیوں کے قتل پر امریکی صدر تلملا اٹھے اور کہا کہ اگر امریکہ فوجی مداخلت کرتا ہے تو وہ ’پوری طاقت کے ساتھ جائے گا تاکہ ان دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے جو ان ہولناک مظالم کے مرتکب ہیں۔‘
تاہم ٹرمپ نے نائجیریا میں ’مسلم عسکریت پسندوں‘ کے مسیحیوں کے ساتھ مبینہ سلوک کے بارے میں کوئی مخصوص شواہد فراہم نہیں کیے۔ ٹرمپ نے نائجیریا کو ’شرمسار ملک‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اس کی حکومت کو فوری قدم اٹھانا ہوگا۔
دوسری جانب ابوجا نے ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ وائٹ ہاؤس نے بھی ممکنہ امریکی کارروائی کے وقت کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔


