حیدرآباد (دکن فائلز)نیویارک سٹی میئر کے طور پر ظہران ممدانی کا انتخاب کرنے پر دنیا بھر میں نیویارک کے عوام کی تعریف کی جارہی ہے تو وہیں ہمارے وطن عزیز میں ظہران ممدانی کی شاندار جیت کے بعد بی جے پی کے کچھ لیڈروں کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا ہے۔
ممبئی بی جے پی کے سربراہ امیت ستم نے نیو یارک سٹی کے میئر کے انتخاب میں ظہران ممدانی کی تاریخی جیت پر انتہائی متنازعہ ریمارکس کئے جس کی ہر کوئی مذمت کررہا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ “ہم کسی خان کو ممبئی کا میئر نہیں بننے دیں گے۔” انہوں نے اسے ’ووٹ جہاد‘ سے بھی جوڑنے کی ناپاک کوشش کی۔
ظہران ممدانی کی جیت پر غمگین امیت ستم نے کہا کہ ’’جس طرح کچھ بین الاقوامی شہروں کا رنگ بدل رہا ہے، کچھ میئروں کے ناموں کو دیکھ کر اور مہا وکاس اگھاڑی کے ووٹ جہاد کو دیکھنے کے بعد، ممبئی کے تناظر میں محتاط رہنا ضروری لگتا ہے…!‘‘
امیت ستم نے اشتعال انگیزی کو جاری رکھتے ہوئے لوگوں کو خبردار کیا کہ “اگر کوئی ممبئی پر ‘خان’ مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ممبئی والوں جاگو…!”
امیت ستم کے متنازعہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ترجمان انیش گاونڈے نے کہا کہ “امیت جی، بین الاقوامی شہروں کا رنگ نہیں بدل رہا ہے، جس دن آپ نے ممبئی بی جے پی کی صدارت سنبھالی تھی، اس دن آپ کا رنگ بدل گیا تھا۔”
انہوں نے مزید کہاکہ “یہ مت بھولنا کہ شیواجی کی فوج جس نے افضل خان کو قتل کیا، اس میں سید ابراہیم خان اور دولت خان بھی شامل تھے۔ نفرت کی سیاست ممبئی سے باہر رکھیں۔”
وہیں مہاراشٹر کانگریس کے لیڈر سچن ساونت نے بھی زعفرانی پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے نفرت کی سیاست کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی بہت بڑے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ہر طرف بدعنوانی ہے، بغیر ڈھکن کے گٹر، بغیر دروازے کے بیت الخلا اور ٹریفک نے ممبئی کو ٹھپ کر کے رکھ دیا ہے۔”


