مسجد میں نماز کی جگہ پر جھگڑے کے بعد نوجوان کو کھمبے سے باندھ کر زندہ جلادیا گیا! حقیقت یا فسانہ (پوری خبر پڑھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے بداون ضلع میں ایک مسجد کے اندر نماز پڑھنے کی جگہ کو لیکر نمازیوں میں ہوئے جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر تین نابالغ لڑکوں نے ایک شخص کو کھمبے سے باندھ کر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کو نماز فجر کے موقع پر مسجد میں نماز ادا کرنے کی جگہ کو لیکر محبوب نامی شخص سے تین نابالغ لڑکوں نے بحث کی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد جب 20 سالہ محبوب مسجد سے باہر آئے تو مبینہ طور پر تین لڑکوں نے انہیں مبینہ طور پر ایک کھمبے سے باندھ کر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی تاہم آگ میں رسی جل گئی جس کی وجہ سے محبوب وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

فی الحال محبوب کا ہسپتال میں علاج کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق محبوب 70 فیصد تک جھلس گئے۔ پولیس نے بتایا کہ اس کی حالت اب مستحکم اور خطرے سے باہر ہے۔ یہ واقعہ جمعہ کی صبح سہاسون روڈ علاقے کی ایک مسجد کے باہر پیش آیا۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ (دیہی) ہردیش کتھیریا نے تصدیق کی کہ پولیس کو ریاست کی ایمرجنسی ہیلپ لائن نمبر کے ذریعہ واقعے کی اطلاع ملی۔

اس واقعہ پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے، کیونکہ پولیس نے قریبی پٹرول پمپ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلیا ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ واقعہ سے کچھ دیر پہلے محبوب خود پیٹرول خرید رہا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ شکوک کی وجہ سے اس کیس کی “تمام ممکنہ زاویوں سے” تفتیش کی جارہی ہے۔ ایس پی کتھیریا نے مزید کہا کہ تفتیش جاری ہے اور تمام ورژنز کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں