داعش کے ساتھ مبینہ روابط و دہشت گرد حملوں کا منصوبہ بنانے کے الزام میں 3 نوجوان گرفتار: گجرات اے ٹی ایس کی کاروائی

حیدرآباد (دکن فائلز) گجرات کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے اتوار کو احمد آباد سے مبینہ طور پر داعش سے روابط کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان تینوں پر ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عائد کیا جارہا ہے۔

یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ تقریباً میڈیا پلیٹ فارم پر تینوں کو (دہشت گرد) بتایا جارہا ہے جبکہ کسی کو بھی الزام ثابت ہونے تک مجرم نہیں کہا جاسکتا اور الزام ثابت ہونے تک وہ ملزم ہی رہتا ہے۔ مجرم قرار دینے کا اختیار صرف اور صرف عدالتوں کو ہے۔

گجرات اے ٹی ایس کے مطابق، گرفتار افراد پچھلے ایک سال سے اس کے ریڈار پر تھے، اور انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ہتھیاروں کی سپلائی کر رہے تھے۔ اے ٹی ایس نے ایک بیان میں کہاکہ “دہشت گرد (مبینہ) ہتھیاروں کے تبادلے کے لیے گجرات آئے تھے اور مبینہ طور پر ملک بھر میں متعدد مقامات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ گرفتار کیے گئے تین مشتبہ افراد کا تعلق دو الگ الگ ماڈیول سے ہے اور ان کے ممکنہ اہداف اور ان مقامات کی نشاندہی کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں جہاں وہ حملے کرنا چاہتے تھے۔”

حکام کے مطابق اس سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔ گرفتار افراد کی شناخت فردین شیخ، سیف اللہ قریشی، محمد فائق اور ذیشان علی کے طور پر کی گئی جبکہ انہیں پہلے بھی گذشتہ 22 جولائی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بنیاد پرست نظریہ کو فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اہلکاروں نے یہ بھی الزامات عائد کیا کہ گرفتار ملزم ذیشان علی کے قبضہ سے ایک غیر قانونی سیمی آٹومیٹک پستول بھی برآمد ہوا ہے۔ گجرات اے ٹی ایس کے حکام کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران کئے گئے انکشافات کی بنیاد پر نوئیڈا میں ذیشان علی کی رہائش گاہ پر فالو اپ آپریشن کے دوران ہتھیار ضبط کیا گیا۔

اس گروپ پر “غزوہ ہند” کے نام پر تشدد بھڑکانے، ہندوستان کی منتخب حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کی کال دینے اور غیر مسلموں کو نشانہ بنانے والی پرتشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA)، 1967، اور بھارتیہ نیا سنہتا، 2023 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ماضی میں بھی سیکوریٹی ایجنسیوں کی جانب سے مختلف مقدمات کے تحت متعدد مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ایک طویل عرصہ اور قانونی جنگ کے بعد ان میں سے اکثر باعزت بری ہوئے ہیں۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ گرفتار افراد بے قصور ہیں۔ کسی کو بھی مجرم اور بے قصور قرار دینے کا اختیار آئین نے عدالتوں کو دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں