تلنگانہ کے سوریا پیٹ میں حافظ پیر شبیر احمد صاحبؒ کی یاد میں “جلسہ تذکرہ محاسن و اخلاق”

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے سوریا پیٹ میں جلسه تذکره محاسن و اخلاق و اعتراف خدمات قائد پاسبان ملت حضرت مولانا حافظ پیر شبیر احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ سابق صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش’ سابق ایم یل سی و چیرمین حج کمیٹی متحدہ آندھرا پردیش منعقد ہوا، جس کی نظامت سینیر صحافی حافظ خلیل عمر نے کی اور صدارت حضرت مولانا عبد القادر صاحب مدظلہ صدر جمعیۃ علماء سوریا پیٹ نے فرمائی اور پورے جلسہ کی سرپرستی حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب مدظلہ نائب صدر جمیعتہ علماء صوبہ تلنگانہ نے کی جبکہ داعی کی حیثیت سے حضرت مولانا سعید المظفرا طہر صاحب مظاہری جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء ضلع سوریا پیٹ نے جلسہ کی نگرانی فرمائی۔

مولانا اطہر صاحب نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ حضرت حافظ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے جمیعت کو اس مقام تک لانے کیلئے بے انتہا محنت مشقت اور جہدو جہد کی آج سب لوگ ان کے آخری دور کر دیکھ رہے ہیں لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے اُن کے ابتدائی مشقتوں کا مشاہدہ کیا اور فرمایا کہ شروع کے ایام میں اُن کے پاس اپنی ذاتی گاڑی تک نہیں تھی بس سے سفر کرتے تھے اور جمیعت کو کوئی نہیں جانتا تھا اس لئے اُن کی اولین خواہش تھی کہ گاؤں گاؤں گھر گھر جمیعت سے وافقت ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ یہاں جمعیت کی ممبر سازی کے لئے تشریف لائے تھے۔ وہ دونوں ہاتوں میں رسیدوں کے تھیلے اٹھائے ہوئے تھے۔ میں خود اپنی گاڑی پر بیٹھا کر سیکڑوں گاؤں لے کر گیا ہوں یہ صرف یہیں کا حال نہیں تھا بلکہ پوری متحدہ ریاست میں اُن کی محنت کا یہی حال تھا۔ آج دونوں ریاستوں میں شائد ہی کوئی گاؤں ہوگا جو جمعیت سے ناواقف ہوگا۔

مولانا معراج الدین ابرار صاحب مدظلہ نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ یہ جگہ جگہ حافظ صاحب کےلئے تعزیتی جلسہ اور مدارس ومساجد میں ایصال ثواب اور ان کا ذکر خیر اس بات کا شاہد ہے کہ وہ حقیقت میں پاسبان ملت تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں