حیدرآباد (دکن فائلز) شملہ کے سنجولی علاقے میں جمعہ کے روز اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی جب شدت پسند خواتین نے مسجد جانے والے نمازیوں کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران مسلم نوجوانوں نے صبر کا زبردست مظاہرہ کیا اور جمہوری انداز میں غیرسماجی عناصر کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر نہ ہی ڈر کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی کوئی غلط حرکت کی۔ مسلم نوجوانوں نے قانون کا احترام کرتے ہوئے خواتین کو سمجھانے کی کوشش کی جبکہ اس دوران کچھ لوگوں کی جانب سے مسلم نوجوانوں کو اشتعال دلانے کی ناپاک کوشش کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کی نماز کےلئے مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد نماز ادا کرنے کے لیے مسجد پہنچے تو دیو بھومی سنگھرش سمیتی کی ارکان جن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں نے نے انہیں مسجد جانے سے روک دیا اور ہنگامہ شروع کردیا۔ سمیتی کے کارکنوں نے کہا کہ عدالت نے مسجد کو غیر قانونی قرار دیکر اسے منہدم کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے یہاں نماز ادا نہیں کی جاسکتی۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسجد میں نماز ادا کرنے سے روکنا غیرقانونی عمل ہے۔ کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ خواتین کی جانب سے قانون کا نام لیکر غیرقانونی حرکت کی گئی۔ اسی دوران پولیس ٹیم موقع پر پہنچی اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے نعرے بھی لگائے اور نمازیوں سے شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کیا، جس سے ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔
یہ بات اب تک واضح نہیں ہوئی ہے کہ آیا بعد میں مسجد میں جانے کی اجازت دی گئی یا نہیں۔ مقامی مسلمان جمعہ کی نماز ادا کرنے سے قاصر رہے یا انہیں بعد میں انتظامیہ کی جانب سے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی۔
واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے از خود کارروائی کرتے ہوئے چھ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جن میں چار خواتین شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔
انتظامیہ نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور افواہوں پر توہ نہ دینے کی اپیل کی۔ پولیس پورے معاملہ کی تحقیقات کر رہی ہے اور یہ بھی جانچ رہی ہے کہ واقعہ میں مزید کون لوگ شامل تھے۔ صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے علاقہ میں سیکوریٹی سخت کردی گئی۔


