حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں ایک افسوسناک اور انسانیت سوز واقعہ نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے، جہاں ایک ہندو کسان کی موت کے بعد اس کے اپنے ہی ہمسایوں نے آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کردیا۔ طویل عرصے سے جاری زمینی تنازع نے صورتِ حال کو اس قدر خراب کردیا کہ مرنے کے بعد بھی خاندان سماجی بائیکاٹ کا شکار رہا۔ ایسے وقت میں قریبی مسلم محلوں کے باشندے آگے آئے اور انہوں نے مرحوم کی تدفین انجام دے کر اخوت و انسانیت کی شاندار مثال قائم کی۔
65 سالہ رنجیت داس عرف ٹوپن، ہریش چندر پور بلاک 1 کے کوشیدہ گرام پنچایت کے تحت اتّر رام پور گاؤں میں سرکاری “کھاس” زمین پر اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان کے گھر کے سامنے واقع ایک قطعہ اراضی کے تنازع نے برسوں سے ان کا سکون چھین رکھا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق چند پڑوسیوں نے دو سال قبل اسی زمین پر ایک عارضی مندر بنا کر سرسوتی کی مورتی نصب کردی، جس پر ٹوپن کے خاندان نے الزام لگایا کہ یہ سب زمین پر قبضے کے لیے کیا گیا۔
خاندان نے پولیس اور انتظامیہ سے کئی بار شکایت کی، لیکن کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترنمول کانگریس کے مقامی لیڈر پراکاش داس اور سابق پنچایت سربراہ رضاالحق نے ان کے مخالفین کا ساتھ دیا، جس سے پولیس ہاتھ بندھے رہی۔ ٹوپن کا بیٹا کشور داس—جو ہریش چندر پور پولیس اسٹیشن میں سولنٹری ہے—بھی اپنے والد کے لیے انصاف نہ دلا سکا اور خاندان سماجی بائیکاٹ کا شکار ہوگیا۔
منگل کی صبح شدید ذہنی تناؤ کے باعث ٹوپن کا انتقال ہوگیا۔ ویشنوی روایت کے مطابق ان کی تدفین ہونا تھی، لیکن گاؤں کے کسی فرد نے ساتھ نہ دیا۔ جب قریب کے مسلم بستیوں تک یہ خبر پہنچی تو منّن علی کی قیادت میں کئی لوگ آئے، انہوں نے لاش کندھوں پر اٹھائی، قبر کھودی اور مکمل رسومات ادا کیں۔
مسلم رہنماؤں نے کہا کہ موت کے بعد بھی کسی کو نظرانداز کرنا غیر انسانی عمل ہے۔ واقعہ پر مقامی ایم ایل اے اور انتظامیہ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔


