حیدرآباد (دکن فائلز) مدینہ منورہ کے قریب پیش آنے والے افسوسناک بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے حیدرآبادی و کرناٹک ریاست سے تعلق رکھنے والے عمرہ زائرین کی نمازِ جنازہ 22 نومبر بروز ہفتہ بعد نمازِ ظہر مسجدِ نبویؐ میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ کی امامت شیخ عبدالباری الثُبیتی نے کی، جس میں مرحومین کے اہلِ خانہ، ہندوستانی وفود اور بڑی تعداد میں مصلی اور زائرین نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کے بعد تمام 45 افراد کی تدفین جنت البقیع میں عمل میں آئی، یہ وہ مقدس قبرستان ہے جہاں اہلِ بیتؓ اور متعدد صحابہ کرامؓ مدفون ہیں۔ سعودی حکام کی منظوری کے بعد یہ تدفین خصوصی انتظامات کے تحت انجام دی گئی۔
حادثہ 17 نومبر بروز پیر کی علی الصبح اس وقت پیش آیا جب عمرہ زائرین کی بس ایک ڈیزل ٹینکر سے ٹکرا کر آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ 45 معتمرین موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ واحد زندہ بچ جانے والے عبدالشعیب محمد فی الحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 42 حیدرآبادی تھے، جن کا حیدرآباد کے ودیانگر نلکہ کنٹہ، آصف نگر، جھرہ، مہدی پٹنم اور ٹولی چوکی کے تعلق تھا۔
حیدرآباد سے 9 نومبر کو روانہ ہونے والے 54 رکنی قافلے میں سے 46 افراد حادثے کا شکار بس میں سوار تھے۔ بقیہ زائرین مختلف وجوہات کے باعث دیگر مقامات پر موجود تھے۔ حادثہ کے بعد تلنگانہ کے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کی ہدایت پر وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہرالدین، رکن اسمبلی ماجد حسین اور سکریٹری بی شفیع اللہ پر مشتمل سرکاری وفد مدینہ منورہ پہنچا، جہاں انہوں نے سعودی حکام، ہندوستانی سفارت خانے اور مرکزی حکومت کے وفد کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے تمام قانونی و انتظامی مراحل کی نگرانی کی۔ ڈی این اے میچنگ اور دیگر کارروائیاں ریکارڈ مدت میں مکمل کی گئیں۔
حکومتِ تلنگانہ نے شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے مسجدِ نبویؐ سے متصل علاقے میں رہائش کا انتظام بھی کیا، جہاں تقریباً 40 قریبی رشتہ دار مدینہ پہنچ کر آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ یہ حادثہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے غم و اندوہ کا باعث بنا۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی قبروں کو نور سے بھر دے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔


