حیدرآباد (دکن فائلز) نیویارک کے پہلے مسلم نومنتخب میئر زہران ممدانی نے روایتی ملاقات کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے وہ بات کہہ دی جسے امریکی سیاست میں اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے— غزہ میں اسرائیل کی جاری قتلِ عام کی کارروائیاں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مشترکہ پریس کانفرنس میں جب صحافیوں نے غزہ کی صورتحال پر سوال کیا تو زہران ممدانی نے دوٹوک لفظوں میں کہا کہ “اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے”۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ فلسطینیوں کے خلاف اس جنگ اور جارحیت میں استعمال ہو رہا ہے، جو اخلاقی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ناقابلِ قبول ہے۔
ممدانی نے زور دے کر کہا کہ نیویارک کے شہری چاہتے ہیں کہ ان کا ٹیکس جنگوں کے بجائے مقامی ضروریات، مہنگائی سے نمٹنے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہو، نہ کہ معصوم فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں۔
زہران ممدانی کے اس واضح مؤقف پر ٹرمپ نے جواباً کہا کہ وہ دونوں مشرقِ وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں، حالانکہ ٹرمپ اور اسرائیلی حکومت دونوں ہی اس بات کی مسلسل تردید کرتے رہے ہیں کہ امریکی فنڈز غزہ جنگ میں استعمال نہیں ہو رہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے 34 سالہ ممدانی کو ’’دیوانہ لیفٹسٹ‘‘، ’’کمیونسٹ‘‘ اور ’’یہود مخالف‘‘ تک قرار دیا تھا۔ تاہم اس بالمشافہ ملاقات میں دونوں نے ایک دوسرے کی تعریف کی اور نیویارک کی بہتری کیلئے مل کر کام کرنے کا اعلان کیا۔
ایک موقع پر جب صحافی نے ممدانی سے پوچھا کہ کیا وہ ٹرمپ کو “فاشسٹ” سمجھتے ہیں، تو ممدانی بات شروع ہی کر رہے تھے کہ ٹرمپ نے ہنستے ہوئے مداخلت کی اور کہا: “بس ہاں کہہ دیں!”۔
واضح رہے کہ زہران ممدانی، جو فلسطین کے حق میں اپنی مضبوط آواز اور اسرائیلی مظالم کے خلاف کھلے مؤقف کے باعث جانے جاتے ہیں، یکم جنوری 2026 کو نیویارک کے میئر کا حلف اٹھائیں گے۔


