مولانا ارشد مدنی کا دوٹوک بیان: بی جے پی، ہندوتوا تنظیموں اور گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار

حیدرآباد (دکن فائلز) جمعیۃ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے حالیہ عوامی جلسے میں ملک کے موجودہ حالات، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف مبینہ حکومتی رویّے پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بے باکی سے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی برتاؤ بڑھتا جا رہا ہے اور انہیں منظم طریقے سے پسِ پشت دھکیلا جا رہا ہے۔ مولانا مدنی نے الفلاح یونیورسٹی اور اعظم خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’آج ایک مسلمان لندن اور نیویارک کا میئر بن سکتا ہے، لیکن ہندوستان میں مسلمان وائس چانسلر بھی نہیں بن سکتا، اور اگر بن جائے تو اسی طرح جیل میں ڈال دیا جاتا ہے جیسے اعظم خان کو ڈالا گیا۔‘‘

مولانا مدنی کے اس حقیقت پر مبنی اور دوٹوک بیان پر بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا اور حسبِ روایت ان پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا شروع کر دیے۔ بی جے پی لیڈر محسن رضا نے ان پر مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور دوہرے معیار کا الزام لگایا۔ بی جے پی کے ایک اور رہنما یاسر جیلانی نے کہا کہ مولانا ’الجھن‘ کا شکار ہیں اور ہندوستان مسلمانوں کے لیے دنیا کی بہترین جگہ ہے۔

گودی میڈیا نے بھی حسبِ معمول مولانا ارشد مدنی کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سلسلہ تیز کر دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی کچھ شدت پسند عناصر مولانا مدنی کے خلاف اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے غیرضروری تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری جانب کانگریس رہنما ادت راج نے مولانا مدنی کے بیان کی حمایت کی اور کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک حقیقت ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ الفلاح یونیورسٹی پر کارروائی شفافیت کے نام پر تعصب کے ماحول کو بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’اگر کچھ افراد نے جرم کیا ہے تو پوری یونیورسٹی کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟‘‘

واضح رہے کہ الفلاح یونیورسٹی کے بانی جواد صدیقی ای ڈی کی حراست میں ہیں، جہاں انہیں منی لانڈرنگ کے معاملے میں پوچھ گچھ کا سامنا ہے۔ یہ معاملہ دہلی دھماکے سے منسلک کیس سے جوڑا جا رہا ہے۔

’حکومتیں چاہتی ہیں مسلمان سر نہ اٹھا سکیں…‘ مولانا ارشد مدنی کا درد بھرا و حقیقت پر مبنی بیان (ویڈیو دیکھیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں