: ملک کے باوقار علمی و تحقیقی ادارہ المعہد العالی *بھارت میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ میں نظام حیدرآباد اور ٹیپو سلطان شہیدؒ کا نمایاں کردار: المعہد العالی الاسلامی میں منعقدہ قومی سمینار سے ڈاکٹر راہی فدائی اور دیگر اہل علم کا اظہار خیالکے نو تعمیر شدہ آڈیٹوریم دارالتربیہ میں ممتاز فقیہ اور نامور عالم دین مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم المعہد العالی و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیر نگرانی “بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ” کے عنوان پر منعقدہ سہ روزہ قومی سمینار کی مختلف علمی نشستوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آج کی چوتھی نشست میں ملک کی مرکزی دینی درسگاہوں اور یونیورسٹیوں سے تشریف لائے ممتاز علماء اور دانشوران نے اپنے مقالات پیش کئے۔ ان مقالات میں دلائل و شواہد کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کیا گیا کہ مذہبی رواداری اور بھائی چارگی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی بھارت کی اصل روح ہے۔ مسلمان حکمرانوں نے اپنے دور اقتدار میں اس روح کو نہ صرف باقی رکھا بلکہ مزید اس کو مضبوط کیا ان حکمرانوں نے عوامی فلاح و بہبودی سے متعلق حکومت کی اسکیموں میں مذہب اور تفریق کی دیگر بنیادوں پر بھارت کے شہریوں کے ساتھ کوئی بھید بھاؤ نہیں کیا۔ بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی، بدھسٹ وغیرہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لئے رفاہی و فلاحی خدمات بغیر کسی فرق و امتیاز کے انجام دی، اس سلسلہ میں نظام حیدرآباد دکن اورسلطان ٹیپو شہیدؒ کا کردار بہت اہم اور نمایاں ہے، نظام حیدرآباد نے بنارس ہندو یونیورسٹی کے لئے مستقل مالی امداد کا سلسلہ جاری کیا، اس کے علاوہ منادر کے لئے جاگیریں مختص کی۔
سلطان ٹیپو شہیدؒ نے بھی اپنے دور حکومت میں بلا لحاظ مذہب تمام باشندوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے اہم اقدامات کئے۔ ان خدمات و کارناموں کے برخلاف مسلم حکمرانوں کے بارے میں جو جھوٹا اور منفی پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اس کی بنیاد صرف نفرت و تعصب اور استعماری مؤرخین کی کارستانی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان خود بھی اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنے اباء و اجداد کی روشن تاریخ سے واقف ہوں اور فرقہ پرستوں کے جھوٹے بیانیہ کا موثر جواب دیں اور ملک کے انصاف پسند طبقہ تک حقائق کو پہنچانے کی کوشش کریں۔
مقالہ نگار حضرات میں سے مولانا اسعد ندوی آرگنائزر تفہیم شریعت پرسنل لاء بورڈ نے ، ہندی صحافت میں مسلمانوں کا حصہ ، مولانا اسامہ ادریس ندوی ایڈوکیٹ لکھنؤ نے آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی عدالتی و قانونی خدمات ، ڈاکٹر قمر شعبان نے نظام حیدرآباد کی طرف سے تعلیمی اداروں خصوصاً بنارس ہندو یونیورسٹی کی مالی امداد، ڈاکٹر ادریس ندوی لکھنؤ یونیور سٹی نے ہندو بھائیوں کی تعلیمی ترقی میں مسلمانوں کا حصہ، مولانا امداد الحق بختیار قاسمی استاد دارالعلوم حیدرآباد نے آبادی بڑھانے کا پروپیگنڈہ…، مولانا فرقان پالنپوری نے تاریخ گجرات میں پیوست باہم مذہبی رواداری، ڈاکٹر سید مقصود راشٹریہ مسلم منچ نے بھکتی تحریک پر مسلمانوں کے اثرات، مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی استاد معہد نے شیوا جی اور مسلمان، ڈاکٹر ظفر قاسمی دہلی نے مسلم عہد حکومت میں ہندو مذہب کا فروغ، مولانا ڈاکٹر محمد اعظم ندوی استاد معہد نے محمود غزنوی اور سومنات، مولانا نوشاد اختر ندوی استاد معہد نے پسماندہ ذاتوں کی تعلیمی ترقی میں مسلمانوں کا رول، مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی دہلی نے ہندوستان میں رواداری کا فروغ اور مسلمان اور مولانا مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نائب ناظم المعہد العالی الاسلامی نے ہندو منادر کی تعمیر اور مسلمانوں کی رواداری کے عنوانات پر اپنے مقالات پیش کئے۔
اس موقع پر تین روزہ سمینار میں پیش کئے گئے مقالات پر مشتمل ایک اہم اور دستاویزی مجلہ بنام “بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا حصہ” کی اشاعت عمل میں آئی اور ممتاز محقق ڈاکٹر راہی فدائی بنگلور کے ہاتھوں اس کی رسم اجراء انجام پائی۔ مولانا انیس الرحمن قاسمی اس نشست کے مہمان خصوصی تھے، مولانا عبید اللہ خان اعظمی نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور ڈاکٹر منظور عالم دہلی کے بھیجے گئے پیغامات بالترتیب مولانا ارشد قاسمی استاد معہد اور مولانا احسن الدین انس نے پڑھ کر سنائے، اس کے علاوہ مفتی عفان منصور پوری صدر جمعیت علماء یوپی کا مقالہ “دینی و ملی اداروں کا ملک کی ترقی میں خاموش کردار”، مولانا محبوب قاسمی ناظم کتب خانہ معہد نے، مولانا مفتی صادق محی الدین صدر مسلم یونائیٹڈ فورم کا مقالہ “حضور نظام کی اقلیتوں کے ساتھ رواداری”، مولانا شاہد محی الدین نے اور ڈاکٹر ثمینہ کوثر کا مقالہ “اردو ادب میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے نقوش”، مولانا شاہ اجمل ندوی فاروقی نے پیش کئے۔
محمد ملحان متعلم معہد کی تلاوت سے نشست کا آغاز ہوا، اور محمد اسجد اللہ متعلم معہد اور مولانا عزیز فلاحی ندوی فاضل معہد نے ہدیۂ نعت پیش کی مولانا ڈاکٹر احمد نور عینی استاذ معہد نے اس نشست کی کارروائی چلائی۔


