المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے زیر اہتمام منعقدہ قومی سیمینار بہ عنوان :”بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار”بتاریخ 21، 22، 23 نومبر 2025ء میں مختلف موضوعات پر 60 سے زائد مقالات پیش کئے گئے، سیمینار اس ناقابل انکار حقیقت کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے کہ ہندوستان کی تعمیر وترقی کی تاریخ مسلمانوں کے علم وعمل، جد وجہد اور قربانی وایثار کے بغیر نامکمل ہے، سیمینار کی مختلف نشستوں میں ملک کے علماء ودانشوران، مؤرخین، ماہرین تعلیم، محققین اور سماجی وسیاسی رہنماؤں نے اپنی وقیع آراء سے یہ حقیقت اجاگر کی کہ مسلمان نہ صرف اس ملک کے معمارِ اوّل رہے ہیں بلکہ آج بھی اس کے استحکام، امن اور ترقی کے ضامن ہیں۔
ان علمی وفکری مباحث کے نتیجے میں جو نکات سامنے آئے، ان کی روشنی میں درجِ ذیل تجاویز وسفارشات اتفاقِ رائے سے پیش کی جا رہی ہیں تاکہ یہ سیمینار محض علمی نشست نہ رہے بلکہ ایک فکری تحریک اور عملی منشور کی صورت اختیار کرے۔ اختتامی نشست میں جناب اقبال احمد انجینیئر معزز ٹرسٹی معہد نے یہ تجاویز پڑھ سنائے ،
تجاویز و سفارشات
1. تحقیقی مراکز کا قیام:
ایسے مستقل تحقیقی ادارے قائم کیے جائیں جو مختلف ادوار میں مسلمانوں کے سماجی، تعلیمی، سیاسی اور ثقافتی کردار کو دستاویزی صورت میں محفوظ کریں اور علمی دنیا کے سامنے مدلل انداز میں پیش کریں۔
2. تاریخی ورثے کی ڈیجیٹ آرکائیونگ:
مسلمانوں کی علمی وتمدنی خدمات سے متعلق مقالات میں پیش کئے گئے مواد کو جدید ڈیجیٹل ذرائع سے جمع کر کے National Digital Heritage Project کے طور پر محفوظ کیا جائے، اور اس کو مختلف ذرائع سے عام کیا جائے، نیز مقالات کو موضوعاتی تقسیم کے ساتھ ملک کی مختلف زبانوں میں شائع کیا جائے۔
3. نصابِ تعلیم میں توازن:
ریاستی وقومی سطح پر نصاب میں مسلمانوں کی علمی وتاریخی خدمات کو شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل تاریخِ ہند کی مکمل اور منصفانہ تصویر سے واقف ہو، نصاب میں مسلمانوں کی تاریخ کو جس انداز سے مسخ کرکے پیش کیا جارہا ہے وہ ان کی روشن تاریخ پر سیاہی پھیرنے کے مترادف ہے۔
4. میڈیا واکیڈمک نیٹ ورکنگ:
مسلمان ماہرین ودانشوران کو قومی و بین الاقوامی فورمز، میڈیا ہاؤسز، اور تھنک ٹینکس میں مؤثر نمائندگی دی جائے، تاکہ ان کی علمی وفکری صلاحیت قومی مباحث کا حصہ بنے۔
5. اقتصادی بحالی کے اقدامات:
حکومت وسماجی ادارے مسلمانوں کے لیے Skill Development، Startup Funding، اور Educational Scholarships کے ذریعے اقتصادی خودکفالت کے نئے مواقع پیدا کریں۔
6. قومی یکجہتی وہم آہنگی:
اسلام کی رواداری اور بھارت کے “کثرت میں وحدت” کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے Interfaith Harmony Forums قائم کیے جائیں، جن میں مختلف مذاہب کے نمائندے مکالمہ و تعاون کو فروغ دیں۔
7. سوشیالوجیکل واکانومک سروے:
ہندوستانی مسلمانوں کے تعلیمی و سماجی حالات پر مستند اعداد وشمار پر مبنی تحقیقی رپورٹس وقتاً فوقتاً شائع کی جائیں تاکہ پالیسی سازی میں حقیقی بنیادیں میسر آئیں۔
8. ادبی وثقافتی احیاء:
اردو، فارسی، عربی اور دیگر مسلم علمی ورثے کو جدید وسائل کے ذریعے فروغ دیا جائے، تاکہ تہذیبی خوداعتمادی اور فکری بیداری کو نئی توانائی حاصل ہو۔
9. اخلاقی وروحانی کردار سازی:
مسلمان اپنے عملی کردار میں قرآن و سنت کی اخلاقی روح کو اجاگر کریں، حب الوطنی اسلام کا حصہ ہے؛ اس لیے بھارت کے آئین کی بالا دستی کو بھی یقینی بنائیں، اور ملک کی تعمیر وترقی میں امکان بھر حصہ لیتے رہیں؛ تاکہ وہ معاشرے میں امانت ودیانت کے نمائندے بن سکیں، اور ملک میں خیر وعدل کا پیغام عام ہو۔
10. بین الاقوامی علمی اشتراک:
اسلامی جامعات، او آئی سی ممالک، اور دیگر بین الاقوامی علمی اداروں سے اشتراکِ علم و تحقیق کے منصوبے ترتیب دیے جائیں تاکہ علمی ربط و تعاون کا نیا دور شروع ہو۔
11. سیاسی وسماجی شرکت:
مسلمانوں کو جمہوری اداروں، عوامی انجمنوں اور سماجی تنظیموں میں فعال شرکت کی ترغیب دی جائے تاکہ وہ فیصلہ سازی کے عمل میں مثبت کردار ادا کریں۔
12. نوجوان نسل کی فکری رہنمائی:
مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں Leadership & Citizenship Training Programs شروع کیے جائیں، تاکہ نئی نسل اپنی دینی و قومی ذمہ داریوں سے بیدار رہے۔
اخیر میں یہ سیمینار اپنے تمام شرکاء کی مشترکہ آواز کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہے کہ: بھارت کی تعمیر وترقی میں مسلمانوں کا کردار محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ مستقبل کی ضمانت ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ یہ تجاویز گفتار سے نکل کر کردار میں ڈھلیں، علم سے عمل میں منتقل ہوں، اور ہمارے ملک کی وحدت، ترقی، اور امن کا ذریعہ بنیں۔
مولانا عتیق بستوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کے مذہبی رہنماؤں نے ہر دور میں اتحاد بین المذاہب کی کوششیں کی اج بھی اس کی جدوجہد جاری ہے یہ بات ضرور ہے کہ مذہب وحدت کے نام پر مسلمان اپنے مذہبی تشخص اور دین کے بنیادی عقائد اور تعلیمات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتے اس موقع پر پروفیسر سید علیم اشرف جائسی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اور پروفیسر سید راشد نسیم ندوی ایفلو نے بھی خطاب کیا جناب عبد الجلیل خان ٹرسٹی معہد نے کلمات تشکر پیش کئے جناب ڈاکٹر راہی فدائی کی دعاء پر تین روزہ روزہ سمینار بحسن وخوبی اختتام کو پہنچا۔


