حیدرآباد (دکن فائلز) ایتھوپیا کے شمالی حصے میں واقع ہیلی گوبی آتش فشاں نے تقریباً 12 ہزار سال بعد 23 نومبر کو اچانک لاوا اگلنا شروع کیا، جس کے نتیجے میں اٹھنے والی آتش فشانی راکھ نے چند ہی گھنٹوں میں کئی ملکوں کی فضائی حدود کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ دھماکے کے بعد بننے والے گھنے راکھ کے بادل 30 سے 35 ہزار فٹ کی اونچائی تک پہنچ گئے، جو وہی ہوائی پرتیں ہیں جن سے بین الاقوامی پروازیں گزرتی ہیں۔ تیز ہواؤں نے اس راکھ کو پہلے خلیجی خطے، پھر عمان اور بحیرۂ عرب کی طرف دھکیل دیا، جس کے بعد یہ 24 نومبر کی رات ہندوستان کی فضائی حدود میں داخل ہوگئی۔
سب سے پہلے یہ راکھ گجرات کے آسمانوں میں دیکھی گئی، جہاں سے یہ بتدریج راجستھان، دہلی، ہریانہ اور پنجاب کی جانب بڑھتا گیا۔ ہندوستان پہلے ہی شدید فضائی آلودگی کا شکار ہے، اور اس آتش فشانی راکھ نے فضائی معیار اور فلائٹ آپریشن دونوں پر مزید دباؤ بڑھا دیا۔ محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے بتایا کہ 100 سے 120 کیلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں اس راکھ کے بادل کو ہندوستان تک لائیں، جو بعد ازاں چین کی سمت بڑھ رہا ہے اور شام 7:30 بجے تک بھارتی فضاؤں سے نکل جائے گا۔
صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے تمام فضائی کمپنیوں کو سخت مشورہ دیا ہے کہ وہ آتش فشانی راکھ سے متاثرہ فضائی راستوں سے گریز کریں اور فلائٹ پلاننگ، روٹنگ اور فیول مینجمنٹ میں خصوصی احتیاط برتیں۔ ادارے نے ایئرلائنز کو ہدایت دی کہ کسی بھی مشتبہ راکھ کے سامنا ہونے کی صورت میں فوری رپورٹ کریں، چاہے وہ انجن کی کارکردگی میں معمولی تبدیلی ہو یا کیبن میں دھواں اور بو محسوس کی جائے۔
⚠️ Ethiopia: The Hayli Gobi volcano erupted today for the first time in ten thousand years and sent ash up to a height of 15 km.🔥🔥 pic.twitter.com/aiPVhhO4rr
— Dr. Fundji Benedict (@Fundji3) November 24, 2025
آتش فشانی راکھ طیاروں کے لیے نہایت خطرناک سمجھی جاتی ہے، کیونکہ یہ انجن میں داخل ہو کر پگھلتی ہے اور ٹربائن میں جم کر رکاوٹ پیدا کرتی ہے، جس سے انجن فیل ہونے تک کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کے سامنے والے شیشے کی تہہ بھی بری طرح خراب ہو جاتی ہے، آلات اور سینسر متاثر ہوتے ہیں اور سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ راکھ عام موسمی ریڈار پر واضح نظر نہیں آتی۔
آتش فشانی راکھ کے بادلوں کے سبب ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ سمیت کئی ایئر لائنز کو اپنی پروازیں منسوخ یا متاثر کرنی پڑیں۔ ایئر انڈیا نے احتیاطی معائنے کی وجہ سے کم از کم 11 بین الاقوامی پروازیں منسوخ کیں اور مسافروں سے اس صورتحال پر معذرت کی۔


