بڑی خبر: حیدرآباد اب ’مہا حیدرآباد‘ میں ہوگا تبدیل! جی ایچ ایم سی میں دیگر 27 میونسپلٹیز کو شامل کرنے کا تاریخی اعلان، دارالحکومت سے متعلق تلنگانہ کابینہ کے کئی اہم فیصلے

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کابینہ نے منگل، 25 نومبر کو حیدرآباد اور اطراف کے شہری انفراسٹرکچر میں بنیادی تبدیلی لانے والے کئی بڑے فیصلوں کی منظوری دی۔ وزیرِاعلیٰ مسٹر اے۔ ریوَنت ریڈی کی صدارت میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اسٹیٹ سکریٹریٹ میں منعقدہ اجلاس میں نہ صرف میٹرَو پولیٹن نظم و نسق کو مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا بلکہ شہر کی ترقی اور بجلی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بھی اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا۔

حیدرآباد–تلنگانہ کور اربن ایریا میں شامل 27 میونسپلٹیز اور کارپوریشنز کو گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (GHMC) میں شامل کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا گیا۔ یہ تمام ادارے اوٹر رنگ روڈ (ORR) کے اندر اور اس سے متصل علاقوں میں واقع ہیں۔ اس انضمام کے بعد ایک ’مہا جی ایچ ایم سی‘ وجود میں آئے گی، جس سے منصوبہ بندی، ترقی اور بلدیہ خدمات میں یکسانیت پیدا ہوگی۔ اس عمل کے لیے جی ایچ ایم سی ایکٹ اور تلنگانہ میونسپل ایکٹ میں ترمیم کی جائے گی۔

جن میونسپلٹیز اور کارپوریشنز کو جی ایچ ایم سی میں شامل کیا جائے گا ان میں پدا عنبرپیٹ، جلپلی، شمس آباد، ترکیمجل، منی کونڈا، نارسنگی، ادی باٹلہ، تکوگوڑہ، میڑچل، دمائی گوڑہ، ناگارام، پوچارم، گھٹکیسر، گنڈلاپوچم پلی، تھمکنٹہ، کومپلی، دنڈیگل، بولارم، تیلاپور، امیرپور، بڈنگ پیٹ، بنڈلہ گوڑہ جاگیر، میرپیٹ، بوڈاپل، پیرزادی گوڑہ، جواہر نگر اور نظام پیٹ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ حیدرآباد میں انڈر گراؤنڈ الیکٹرک کیبل سسٹم قائم کرنے کی منظوری دی گئی، جس پر تقریباً 14,725 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ منصوبہ بجلی کے تین سرکلز میں مرحلہ وار مکمل ہوگا، جس سے:
حادثات میں کمی
بجلی کی بلا تعطل فراہمی
بارشوں میں ٹرپنگ کے مسائل کا خاتمہ متوقع ہے۔

کابینہ نے این پی ڈی سی ایل (NPDCL) اور ایس پی ڈی سی ایل (SPDCL) کے ساتھ ایک نئے پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی (DISCOM) کے قیام کو بھی منظوری ملی۔

اس نئی ڈسکم کے تحت تمام:
زرعی برقی کنکشن
لفٹ ایریگیشن اسکیمیں
مشن بھاگیرتھا
محفوظ پینے کے پانی کی اسکیمیں
حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے برقی کنکشن منتقل کیے جائیں گے۔

کارپوریٹر فنڈ میں اضافہ
جی ایچ ایم سی نے شہر کے 150 وارڈز کے لیے ہر کارپوریٹر کو 2 کروڑ روپے کی ترقیاتی گرانٹ مختص کی ہے، جو مقامی ضروریات اور شہری سہولیات کے لیے خرچ کی جائے گی۔

قابلِ تجدید توانائی اور نئے پاور پروجیکٹس

5 سالہ معاہدوں کے تحت 3000 میگاواٹ سولر پاوراور 2000 میگاواٹ پمپڈ اسٹوریج پاور خریدنے کے لیے ٹنڈرز جاری ہوں گے۔
ریاست میں مجموعی طور پر 10,000 میگاواٹ پمپڈ اسٹوریج پلانٹس قائم کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
نئی صنعتوں کو اپنی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی جائے گی (کیپٹیو پاور جنریشن)۔

تعلیمی و اسپورٹس اداروں کے لیے زمین کی منظوری

بھدرادری نئے گوڑہ ضلع کے دُمّو گوڑم حلقہ میں ایس سی، ایس ٹی، بی سی ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ ریزیڈینشل اسکول کے لیے 20.28 ایکڑ سرکاری زمین مختص۔ مُلّوگو ضلع کے جگنّا پیٹ میں اسپورٹس اسکول کے لیے 40 ایکڑ زمین کی منظوری۔ ریاست میں مزید 6 آئی ٹی آئی کالجز کو اے ٹی سیز میں تبدیل کرنے کی منظوری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں