حیدرآباد (دکن فائلز) اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کا عمل نو ریاستوں اور تین مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تیزی سے جاری ہے، مگر اس دوران عوام میں ووٹر لسٹ سے نام حذف ہونے اور شہریت پر اثرات پڑنے کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان تمام اندیشوں کو دو ٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹنگ لسٹ اور شہریت کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ ووٹنگ لسٹ میں نام درج نہ ہونا یا کسی وجہ سے حذف ہو جانا شہریت ختم ہونے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ کمیشن نے آئینی اختیارات کے تحت یہ بھی کہا کہ ووٹر کے حق رائے دہی کو یقینی بنانے کے لیے شہریت سے متعلق دستاویزات طلب کرنا قانونی طور پر درست ہے۔
نام حذف ہونے پر کیا ہوگا؟
الیکشن کمیشن کے مطابق SIR صرف ووٹر لسٹ کو صاف اور شفاف بنانے کا عمل ہے۔ اگر کسی کا نام غلطی سے حذف ہو جائے تو وہ بعد میں دستاویزات فراہم کر کے دوبارہ شامل ہو سکتا ہے۔
BLO لوگوں کے گھروں تک جا کر گنتی فارم کی دو کاپیاں فراہم کر رہا ہے، جنہیں بھر کر واپس دینا ہوگا۔ فارم آن لائن بھی جمع کرایا جا سکتا ہے۔
اگر کسی ووٹر کا نام 2002 یا 2003 کی لسٹ میں تھا تو وہ متعلقہ کالم میں EPIC نمبر، حصہ نمبر، اسمبلی حلقہ وغیرہ درج کرے گا۔ جو لوگ ان لسٹوں میں شامل نہیں تھے، وہ والدین یا دادا-پردادا کی تفصیلات درج کر کے نیا اندراج کرا سکتے ہیں۔
2002 لسٹ سے نام غائب—کیا کریں؟
ایسے افراد فارم بھر دیں۔ بعد میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفس سماعت کرے گا، جہاں اسکول سرٹیفکیٹ، ڈومیسائل، پاسپورٹ، پیدائش کا سرٹیفکیٹ جیسی 10 منظور شدہ دستاویزات میں سے کوئی ایک پیش کرنی ہوگی۔ ڈرافٹ لسٹ آنے کے بعد ایک مہینے کے اندر اعتراض درج کرایا جا سکے گا۔
الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ SIR کو لے کر خوف زدہ نہ ہوں، یہ صرف درست ووٹر لسٹ تیار کرنے کا عمل ہے، نہ کہ شہریت کی جانچ کا۔


