حیدرآباد (دکن فائلز) آسام اسمبلی نے جمعرات کے روز آسام پروہیبیشن آف پولیگیمی بل 2025 منظور کر لیا، جس کے تحت ریاست میں کثرتِ ازدواج (ایک سے زیادہ شادیوں) پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ نئے قانون کے مطابق بغیر استثنیٰ کے پولیگیمی کو جرم تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ 10 سال کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
بل میں شیڈولڈ ٹرائب (ST) سے تعلق رکھنے والے افراد اور چھٹے شیڈول کے تحت آنے والے علاقوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما جو محکمہ داخلہ اور سیاسی امور کی بھی ذمہ داری رکھتے ہیں— نے وضاحت کی کہ یہ قانون کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “یہ بل مذہب سے بالاتر ہے۔ اسے اسلام مخالف قرار دینا غلط ہے۔ ہندو بھی پولیگیمی سے مبرا نہیں ہیں، لہٰذا یہ قانون ہندو، مسلمان، عیسائی اور دیگر تمام برادریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگا۔” حکومت کی خواہش تھی کہ بل کو متفقہ طور پر منظور کیا جائے، تاہم اپوزیشن کی جماعتیں اے آئی یو ڈی ایف اور سی پی آئی ایم نے اپنے ترمیمی تجاویز واپس نہیں لیں، جو بعد میں ندائی ووٹ سے مسترد کر دی گئیں۔
وزیراعلیٰ سرما نے واضح طور پر کہا کہ یہ قانون یونیفارم سول کوڈ (UCC) کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اعلان کیاکہ “اگر میں اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات کے بعد دوبارہ وزیراعلیٰ منتخب ہوا تو یو سی سی کو نئی حکومت کے پہلے ہی سیشن میں ایوان میں پیش کر کے نافذ کیا جائے گا۔”
سرما نے مزید کہا کہ حکومت “فریب دہ شادی” (deceptive marriage) کے خلاف بھی جلد قانون لانے جا رہی ہے، جو ممکنہ طور پر فروری کے آخر تک پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قانون اس بیان کے مطابق ہوگا جو انہوں نے “لَو جہاد” کے خلاف کارروائی کے حوالے سے دیا تھا۔
چند ہفتے قبل بھی وزیراعلیٰ سرما نے اعلان کیا تھا کہ حکومت ریاست میں لَو جہاد پر پابندی لگانے اور اس کے خلاف خصوصی قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے۔ آسام حکومت کا کہنا ہے کہ پولیگیمی پر پابندی، خواتین کی قانونی اور سماجی حیثیت مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے، جبکہ اپوزیشن اسے عجلت میں کی گئی قانون سازی قرار دے رہی ہے۔


