ماؤنوازوں کا تاریخی اعلان: یکم جنوری 2026 کو اجتماعی طور پر ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) ماؤو وادی تحریک میں ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ زون میں سرگرم ماؤنواز گروپ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جنوری 2026 کو اجتماعی طور پر ہتھیار ڈالنے اور مرکزی دھارے میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ یہ اعلان تنظیم کے ترجمان “انات” کے نام سے جاری کیے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس نے ملک بھر میں سیاسی و سیکورٹی حلقوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ تنظیم گذشتہ برسوں میں کمزور ہوتی گئی، خاص طور پر اس وقت جب سینئر رہنما ملوجولا اور آشانا نے ہتھیار ڈال دیے اور بدنامِ زمانہ کمانڈر ہڈّما ایک انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ ترجمان کے مطابق بقیہ کیڈرز نے مرکزی حکومت کی بار بار اپیلوں کے بعد اجتماعی طور پر امن کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ماؤو وادیوں نے واضح کیا کہ وہ اجتماعی اور باوقار طریقے سے سماج میں دوبارہ شامل ہونا چاہتے ہیں، نہ کہ انفرادی طور پر۔ انات نے کہا کہ واپسی اسی وقت ممکن ہے جب مہاراشٹر، ایم پی اور چھتیس گڑھ کی حکومتیں سکیورٹی کی واضح یقین دہانی اور شفاف بحالی پروگرام پیش کریں۔ اس نے شکایت کی کہ پہلے کے بحالی پروگرام “صرف کاغذوں تک محدود رہے” اور ہتھیار ڈالنے والوں کو مکمل تحفظ نہیں مل سکا۔

تنظیم نے تینوں ریاستی حکومتوں سے یکم جنوری تک تمام جارحانہ کارروائیاں روکنے کی اپیل کی ہے، جس کے بدلے میں ماؤو وادی بھی ہر قسم کی مسلح کارروائی بند رکھیں گے۔ خط میں کہا گیا “ہم سب ایک ہی دن ہتھیار ڈالیں گے تاکہ ہماری اجتماعی وحدت برقرار رہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کی اجتماعی حکمتِ عملی ہے، ہماری جدوجہد سے غداری نہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کا مقصد صرف سرنڈر نہیں بلکہ عزت کے ساتھ سماج میں واپسی ہے۔ “ہماری لڑائی ہمیشہ عوام کے لیے تھی، عوام کے خلاف نہیں۔ بدلتے حالات نے ہمیں یہ فیصلہ لینے پر مجبور کیا ہے تاکہ مقامی برادریوں کی بہتری اور تنظیم کے وجود کو بچایا جا سکے۔”

ماؤو وادیوں نے صحافیوں اور سماجی شخصیات سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس حساس مرحلے میں مثبت کردار ادا کریں اور بداعتمادی پیدا نہ کریں۔ خط کے مطابق اگلے ایک ماہ تک ایم ایم سی کے نمائندے مخصوص ریڈیو فریکوئنسی پر رابطے کے لیے دستیاب رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں