حیدرآباد (دکن فائلز) اروناچل پردیش کے نہرلگن کی جامع مسجد میں 27 نومبر کو پیش آنے والے واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں اروناچل پردیش انڈیجینس یوتھ ایسوسی ایشن (APIYO) کے دو شدت پسند خود ساختہ لیڈروں نے مسجد کے امام پر زبردستی ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگانے کے لیے دباؤ ڈالتے کی کوشش کی۔ امام نے انتہائی جرأت، بردباری اور حوصلے کے ساتھ فرقہ پرستوں کے دباؤ میں آنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں صرف “انڈیا زندہ باد” کہہ سکتا ہوں۔ کیونکہ میں اس سرزمین سے دوسروں سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں لیکن میں اسے ماں نہیں سمجھتا، کیونکہ میرے مذہب نے مجھے اس کی تعلیم دی ہے۔
ویڈیو کے مطابق، امام نے واضح الفاظ میں کہا کہ “انڈیا زندہ باد کافی ہے… بھارت ماتا کی جئے نہیں بولیں گے… انسان کی صرف ایک ہی ماں ہوتی ہے۔‘‘ ان کا یہ پُرسکون، باوقار اور اصولی جواب اب ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔
ویڈیو میں APIYO کے جنرل سیکریٹری تاپور میئنگ اور صدر تارو سونم لیاک کو امام پر بار بار دباؤ ڈالتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ بحث کے دوران لیاک نے مسلمانوں کے بارے میں اشتعال انگیز اور اشتعال پیدا کرنے والے جملے بھی کہے جس کی ملک بھر کے مسلمانوں کی جانب سے پرزور مذمت کی جا رہی ہے۔
واقعہ پر ملک بھر کے مسلمانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ آخر کس قانون کے تحت کوئی گروہ کسی شہری سے حب الوطنی کے نعرے زبردستی لگوانے کا حق رکھتا ہے؟ کیا ریاست میں لاقانونیت بڑھ چکی ہے کہ مسجد کے اندر گھس کر مذہبی رہنماؤں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جائے؟ پولیس آخر اس طرح کی حرکات پر خاموش کیوں ہے؟
مذہبی رہنماؤں، مقامی قبائلی نمائندوں اور دانشوروں نے APIYO کے رویہ کو ’’غیر ضروری اشتعال انگیزی‘‘، ’’غیر قانونی دباؤ‘‘ اور ’’نفرت کو ہوا دینے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ مسجد میں داخل ہوکر امام سے نعرہ لگوانے کی کوشش کرنا نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاست میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری مباحثوں میں عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے عناصر پر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ طرزِ عمل خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔
APIYO گزشتہ ایک ماہ سے ریاست میں غیر قانونی ہجرت کے نام پر مہم چلا رہی ہے، اور ویڈیو میں کچھ ارکان امام کی شناخت اور ان کے دستاویزی اسٹیٹس پر بھی سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں۔ مگر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی شہری کی شناخت یا دستاویزات کی جانچ پولیس اور سرکاری محکموں کی ذمہ داری ہے، نہ کہ کسی تنظیم یا اس کے ارکان کی۔
شہری حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ مسجد کے اندر ہنگامہ آرائی اور خوف پھیلانے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کو چیلنج کرنے والی حرکات کو برداشت نہ کیا جائے، عوام کو ڈرانے والے ایسے گروہوں پر قدغن لگائی جائے تاکہ ریاست میں امن برقرار رہے۔
انڈیا ٹو ڈے و دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق ولیس کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جس پر عوامی ناراضی بڑھ رہی ہے۔


