طلاق یافتہ مسلم خاتون شادی کے وقت دی گئی رقم اور زیور واپس لینے کی حق دار، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ

حیدرآباد (دکن فائلز) سپریم کورٹ نے منگل، 2 دسمبر کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ طلاق یافتہ مسلم خاتون اپنی شادی کے وقت اپنے والد کی طرف سے شوہر کو دی گئی نقد رقم اور سونے کے زیورات واپس لینے کی پوری حق دار ہے۔ یہ حق مسلم ویمن (پروٹیکشن آف رائٹس آن ڈائیورس) ایکٹ 1986 کے تحت دیا گیا ہے۔ عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا جس میں خاتون کی 7 لاکھ روپے اور سونے کے زیورات کی واپسی کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

پس منظر:
خاتون کی شادی 2005 میں ہوئی، 2009 میں علیحدگی اور 2011 میں طلاق ہوگئی۔ انہوں نے 1986 کے قانون کی دفعہ 3 کے تحت 17.67 لاکھ روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا، جس میں 7 لاکھ روپے نقد اور 30 بھوری سونا شامل تھا۔ یہ سب شادی کے رجسٹر (قابل نامہ) میں درج تھا کہ یہ چیزیں لڑکی کے والد نے لڑکے کو دی تھیں۔

ہائی کورٹ نے معمولی تضاد کی بنیاد پر ان کا دعویٰ مسترد کر دیا تھا۔ ایک طرف قاضی نے کہا کہ رجسٹر میں رقم درج ہے مگر نہیں بتایا گیا کہ کس کو دی گئی، جبکہ لڑکی کے والد نے بیان دیا تھا کہ رقم داماد کو دی گئی تھی۔

سپریم کورٹ کا مؤقف:
سپریم کورٹ نے کہا کہ شادی کا اصل رجسٹر اور قاضی کی گواہی کو شک کی بنیاد پر نہیں جھٹلایا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ 1986 کے قانون کی دفعہ 3(1)(d) کے مطابق وہ تمام چیزیں جو لڑکی کو شادی سے پہلے، شادی کے وقت یا بعد میں دی جائیں، وہ اس کی ملکیت ہوتی ہیں اور طلاق کے بعد وہ انہیں واپس لینے کی حق دار ہے۔

عدالت نے کہا کہ اس قانون کا مقصد طلاق یافتہ خواتین کی عزت، تحفظ اور مالی استحکام کو یقینی بنانا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ان کے وقار اور خود مختاری کے حق سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں میں، آج بھی پدرشاہی رویّوں کا سامنا کرتی ہیں، اس لئے قوانین کی تشریح ان کے تحفظ کے مطابق ہونی چاہیے۔

عدالت نے خاتون کی اپیل منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ شوہر مقررہ رقم براہِ راست خاتون کے بینک اکاؤنٹ میں جمع کرے۔ اگر شوہر رقم ادا نہ کرے تو اُس پر سالانہ 9 فیصد سود لگے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں