کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت کے پوتے پر جہیز، تشدد اور قتل کی کوشش کے سنگین الزامات

حیدرآباد (دکن فائلز) مدھیہ پردیش کے ضلع رتلام میں ایک سنسنی خیز معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب دیویا گہلوت، جو کرناٹک کے گورنر تھاورچند گہلوت کے پوتے دیویندر گہلوت کی اہلیہ ہیں، نے اپنے شوہر اور سسرالی رشتہ داروں پر جہیز کے مطالبے، سنگین گھریلو تشدد، قتل کی کوشش اور اپنی چار سالہ بیٹی کے اغوا جیسے بھیانک الزامات عائد کیے ہیں۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دیویا نے رتلام کے ایس پی امیت کمار کو تحریری شکایت دیتے ہوئے اپنی ننھی بیٹی کی فوری بازیابی اور تمام ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دیویا کے مطابق ان کی بیٹی کو اُجّین ضلع کے ناگدا میں زبردستی سسرالی افراد نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور انہیں اس سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔

شکایت میں دیویا نے اپنے شوہر دیویندر گہلوت (33)، سسر جیتندر گہلوت (55) جو سابق ایم ایل اے ہیں، دیور وِشال گہلوت (25) اور دادی ساس انیتا گہلوت (60) کے خلاف مسلسل جسمانی و ذہنی اذیت، اور 50 لاکھ روپے جہیز کے مطالبے جیسے سنگین الزامات شامل کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی سے قبل ان کے شوہر کی شراب نوشی، منشیات کی عادت اور مبینہ ناجائز تعلقات سے متعلق اہم معلومات چھپائی گئیں۔

دیویا کے مطابق 2018 میں ’کُنّی دان یوجنا‘ کے تحت ہونے والی شادی کے بعد ہی اصلی مشکلات شروع ہوگئیں۔ وہ الزام لگاتی ہیں کہ سسرال پہنچتے ہی انہیں شوہر کی لَت، دوسری عورتوں سے تعلقات اور جہیز کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دورانِ حمل 2021 میں صورتحال مزید بگڑ گئی اور انہیں کھانے تک سے محروم کیا گیا، مارا پیٹا گیا اور ذہنی طور پر اذیت دی گئی۔

دیویا کا کہنا ہے کہ 26 جنوری کی رات ان کے شوہر نشے کی حالت میں گھر آئے اور رقم نہ لانے پر جان سے مارنے کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں چھت سے نیچے دھکا دے دیا جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی، کندھے اور کمر میں شدید چوٹیں آئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ساری رات انہیں علاج سے محروم رکھا گیا اور صبح ایک نجی اسپتال میں لے جایا گیا جہاں حالت نازک ہونے پر انہیں اندور ریفر کر دیا گیا، مگر والدین کو خبر تک نہ کی گئی۔

دیویا کے مطابق سب سے بڑا زخم ان کی ننھی بیٹی کی جدائی ہے۔ اسکول میں بیٹی سے ملنے کی کوشش پر شوہر نے انہیں ڈراتے ہوئے کہاکہ “پیسے لاؤ، تب ہی بچی سے ملوگی۔”

رتلام پولیس نے درخواست قبول کر کے اُجّین پولیس کو کارروائی کے لیے روانہ کر دی ہے۔ دوسری طرف سابق ایم ایل اے جیتندر گہلوت کا کہنا ہے کہ “الزامات کوئی بھی لگا سکتا ہے، ہم میڈیا کے سامنے سچ پیش کریں گے۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں