بڑی خبر: امید پورٹل میں تکنیکی خرابی سے لاکھوں وقف املاک کو خطرہ لاحق: وزیر جارج کیریان سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل

حیدرآباد (دکن فائلز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے چہارشنبہ کو وزیر مملکت برائے اقلیت امور، جارج کیریان سے فوری اور ہنگامی ملاقات کےلئے وقت طلب کرتے ہوئے امید پورٹل پر بار بار پیش آنے والی تکنیکی خرابیاں دور کرنے اور وقف جائیدادوں کی آن لائن اندراج کی صورتِ حال کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بورڈ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ مشکلات کی وجہ سے لاکھوں وقف املاک کی بروقت اور مکمل ڈیجیٹائزیشن ناممکن بنتی جا رہی ہے جس کے سنگین آئینی، قانونی اور انتظامی نتائج نکل سکتے ہیں۔ بورڈ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ پورٹل کے مسلسل سست براوزنگ، کریش اور بعض اوقات مکمل طور پر بند ہو جانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کی وجہ سے متولیان اور وقف ادارے مقررہ مدت کے اندر اپنی جائیدادیں اپ لوڈ نہیں کر پا رہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا، “اس مدت میں لاکھوں جائیدادیں اپلوڈ کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ہم وفاقی وزیر سے نہ صرف تکنیکی مسائل دور کرنے کا کہہ رہے ہیں بلکہ مدت میں توسیع کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔”

بورڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا محمد فضل الرحمن مجدیڈی نے وزیر کو بھیجا گیا خط میں نشاندہی کی ہے کہ حکومت نے خود ہدایت دی تھی کہ تمام رجسٹرڈ وقف املاک کی تفصیلات مرکزی امید پورٹل پر اپ لوڈ کی جائیں۔ مگر پورٹل کی ناقص کارکردگی نے اس ہدایت کو عملی طور پر ناممکن بنا دیا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر آٹھ لاکھ سے زائد جائیدادوں کو اپ لوڈ کرنا عملی طور پر نا ممکن ہے اور بورڈ نے پورے ملک میں ورکشاپس اور معاون “ہیلپ ڈیسک” قائم کر کے متولیان کو تربیت دینے اور مدد فراہم کرنے کی کوششیں بھی کیں، مگر حجم اتنا زیادہ تھا کہ کام مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت اور بنیادی تکنیکی استحکام ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ Unified Waqf Management, Empowerment, Efficiency and Development (UMEED) مرکزی پورٹل کو 6 جون کو متعارف کرایا گیا تھا جس کا مقصد ملک بھر کی وقف جائیدادوں کا ایک ڈیجیٹل، جیوٹیگڈ انوینٹری تیار کرنا تھا۔ حکومتی حکم کے تحت ہر رجسٹرڈ وقف پراپرٹی کی مکمل تفصیلات اسی پورٹل پر چھ ماہ کے اندر اپ لوڈ کرنا لازم قرار دیا گیا تھا۔ اس مہم کا مقصد شفافیت، مؤثر نگرانی اور وقف اہلیت و انتظام میں بہتری بتائی گئی تھی، مگر عملی نفاذ کے مرحلے پر درپیش تکنیکی رکاوٹیں اور انتظامی چیلنجز اس اہداف کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

متعدد قانونی و ڈیجیٹل ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پورٹل کی بنیاد مستحکم نہ کی گئی اور وقت کی پابندی کو یکطرفہ طور پر نافذ کر کے سخت قانونی کارروائی اختیار کی گئی تو چھوٹے وقف ادارے اور کم وسائل والے متولیان ناقابلِ تلافی نقصان کا شکار ہو سکتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے امید پورٹل پر اندراج کی مدت میں توسیع کرنے سے انکار کردیا اور واضح کیا کہ چھ ماہ کی آخری تاریخ کو بڑھانے کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ تکنیکی خرابیوں کا معاملہ مناسب فورم یعنی وقف ٹربیونل میں اٹھایا جا سکتا ہے تاکہ انفرادی درخواستوں پر نرمی یا استثنیٰ کا جائزہ لیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں